بیڑغیرقانونی اسقاط حمل کے سزا یافتہ مجرم ڈاکٹر سدام منڈے نے ضمانت پر رہائی کے بعد دوبارہ شروع کیا اپنا دھندہ ، پولیس نے کیا گرفتار

اورنگ آباد 13 ستمبر (یو این آئی)غیرقانونی طور پر اسقاط حمل کے جرم میں دس سال قید کی سزا پانے والے مجرم ڈاکڑ نے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دوبارہ اپنی ان ہی حرکتوں کو شروع کر دیا۔ بیڑ ضلع کے تعلقہ پرلی سے تعلق رکھنے والے ، اسقاط حمل کیس کے مرکزی ملزم سُدام منڈے نے ضمانت پر رہائی کے بعد اپنا اسپتال دوبارہ کھول دیا۔ اور اپنے اسپتال میں اس نے تین خواتین کی جانچ کی۔ محکمہ صحت کی جانب سے گئی ابتدائی تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے دو نے اسقاط حمل کیا تھا۔ یہ دونوں خواتین پونا اور حیدرآباد کی رہائشی ہیں اور ان کی میکہ پرلی میں ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر سوڈم منڈے کو غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کے جرم میں دس سال قید کی سزا ہوئی تھی ، جیسے ہی عدالت نے اسے ضمانت پر رہا کیا ، اس نے پرلی کے قریب رام نگر علاقے میں اپنا اسپتال دوبارہ کھولیا۔ یہ اطلاع ملنے پر، انتظامیہ اور محکمہ صحت نے 5 ستمبر کی رات اس کے اسپتال پر چھاپہ مارا۔ اس کے خلاف پرلی شہر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس وقت وہ پولیس کی تحویل میں ہے۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے جن مریضوں کی جانچ کی ان کی سونوگرافی پرلی کے ایک سنٹر میں کی گئی تھی۔

محکمہ صحت کو 8 افراد کے نام موصول ہوئے۔ خواتین میں سے تین حاملہ تھیں۔ محکمہ صحت نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ خواتین پونا ، پرلی اور حیدرآباد کی رہائشی ہیں۔ ان میں سے ، حیدرآباد اور پونا کی ایک خاتون نے اسقاط حمل کیا اس طرح کی اطلاع پرلی تعلقہ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر لکشمن مور نے دی۔ گرچہ خواتین نے اس کی مختلف وجوہات بتائیں ، لیکن ذرائع نے بتایا کہ یہ مشکوک ہے۔
یاد دلا دیں کہ ، پوری ریاست میں مضوع بحث بنے والے غیر قانونی اسقاط حمل کے ایک معاملے میں مئی 2012 میں وجیملا پاٹیکر نامی خاتون اسقاط حمل کرتے ہوئے انتقال کرگئ تھیں۔ اس کے بعد منڈے اسپتال میں جاری غیر قانونی امراض تشخیص اور اسقاط حمل کا کاروبار دنیا کے سامنےآیا تھا۔ بعدازاں اس مقدمہ میں ، مرکزی مجرم ڈاکٹر سدام منڈے اور ان کی اہلیہ سرسوتی منڈے کو ضلعی عدالت نے 10 سال سخت مشقت کی سزا سنائی تھی ۔ اسی کے ساتھ متاثرہ خاتون کے شوہر مہادیو پاٹیکر کو بھی اس معاملے میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور اسے بھی 10 سال کی سخت محنت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کیس کے 17 ملزمان میں سے چار ہلاک ہوگئے جبکہ باقی دس افراد کو مضبوط شواہد نہ ہونے کی وجہ سے بری کردیا گیا تھا ، تین ملزمان کو سزا سنائی گئی تھی۔
ان تینوں مجرموں پر مجموعی طور پر ساڑھے چار لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور ہلاک ہونے والے وجئےمالہ پاٹیکر کی چار یتیم بیٹیوں کے نام ایک قومی بنک میں رکھے گئے تھے۔اس معاملے میں ، ڈاکٹر منڈے اور ان کی اہلیہ نے استدلال پیش کیا تھا کہ، ہم بہت بوڑھے ہیں ، ہم بیمار ہیں ، اور چونکہ ہم سینئر شہری ہیں ، لہذا عدالت کو رحم کرنا چاہئے اور سزا کو کم کرنا چاہئے۔ لیکن استغاثہ نے کہا تھا کہ ” آپ نے اپنے عمل سے چار چھوٹی لڑکیوں کو یتیم کردیا۔ اور ماں کی ممتا سے محروم کردیا۔ اگر وہ عمر کے نام پر رحم کی بھیک مانگ رہے ہیں تو وہ اس طرح کی غلط حرکتیں نہیں کرسکتے ہیں۔ جب اسقاط حمل کی اجازت نہیں تھی ، تو ڈاکٹر منڈے نے اسپتال میں 60 کمرے اور 120 بیڈ رکھے تھے۔ انھیں صرف دس بستر ( بیڈ ) رکھنے کی اجازت تھی۔ ایم ٹی پی ایکٹ کے مطابق اجازت کے بغیر اسقاط حمل کیا۔ لہذا انھیں زیادہ سخت سزا دی جانی چاہئے”
خود کو بہت بوڑھا، بیمار اور سینئر شہری کہ کہ دہائی دے کر رحم کی بھیک مانگنے والے بے شرم ڈاکٹر نے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ایک بار پھر اپنا دھندہ شروع کیا ، جس پر عوام میں غم اور غصہ پایا جا رہاہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading