بہن کو مسلم نوجوان کیساتھ دیکھ کربھائیوں نے بہیمانہ قتل کردیا

اتر پردیش کے مرادآباد ضلع میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک لڑکی اور اس کے دوست کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا گیا کہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس دوہرے قتل کا الزام لڑکی کے سگے بھائیوں پر عائد کیا گیا ہے۔

مقتول لڑکی کی شناخت 19 سالہ کاجل کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ اس کے دوست محمد ارمان کی عمر 27 سال بتائی گئی ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں کاجل کے تین بھائیوں — راجارام، ستیش اور رنکو سینی — کو ملزم قرار دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ 19 جنوری کی علی الصبح امری گاؤں میں پیش آیا۔ دونوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کے بعد ملزمان نے لاشوں کو بوریوں میں بھر کر پاکبڑا تھانہ علاقہ میں ایک ندی کے کنارے دفنا دیا۔ پولیس نے 21 جنوری کی شام دونوں لاشیں برآمد کر لیں۔

رپورٹ میں ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واقعے کی رات دیر گئے محمد ارمان کاجل کے گھر آیا تھا اور وہ اس کے کمرے میں موجود تھا۔ اسی دوران کاجل کے ایک بھائی کو اس بات کی خبر مل گئی۔ اس نے فوراً اپنے دونوں بھائیوں کو اطلاع دی، جس کے بعد تینوں زبردستی کمرے میں داخل ہو گئے اور ارمان اور کاجل پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے گھر کے دیگر افراد کو بھی کمرے میں داخل ہونے سے روک دیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان میں سے ایک بھائی گھر سے فاوڑا لے آیا اور اس سے ارمان پر مسلسل وار کیے گئے، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو کر بے ہوش ہو گیا اور بعد میں اس کی موت ہو گئی۔ ارمان کو مردہ دیکھ کر کاجل خوفزدہ ہو کر گھر سے باہر بھاگنے اور شور مچانے لگی، لیکن تینوں بھائیوں نے اسے پکڑ لیا اور فاوڑے سے حملہ کر کے اس کی بھی قتل کر دیا۔

قتل کے بعد ملزمان نے دونوں لاشوں کو بوریوں میں بند کیا اور گاؤں سے چند کلومیٹر دور ایک ندی کے کنارے لے جا کر دفنا دیا۔

مرادآباد کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ستل پال نے بتایا کہ 20 جنوری کو ارمان کے اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ ارمان 18 جنوری کی رات سے لاپتہ ہے اور آخری بار اسے سونے کے لیے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اسی دن کاجل کے اہل خانہ نے بھی اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔

ارمان کے خاندان نے پولیس کو اس کے اور کاجل کے درمیان تعلقات کے بارے میں بتایا، تاہم ابتدا میں کاجل کے اہل خانہ نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ ارمان نے کاجل کو اغوا کر لیا ہے اور مذہب تبدیل کروا کر شادی کرنا چاہتا تھا۔

بعد میں جب پولیس نے کاجل کے بھائیوں سے سختی سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے غصے میں آ کر دونوں کے قتل کا اعتراف کر لیا۔ ان کی نشاندہی پر ندی کے کنارے سے دونوں لاشیں برآمد کی گئیں۔

محمد ارمان کے والد حنیف کی شکایت پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا اس واردات میں کوئی اور افراد بھی شامل تھے یا نہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading