بہار: کورونا وائرس کے سبب’ہولی بازار‘ کی رونق پھیکی

پٹنہ: چین کے کورونا وائرس کے انفیکشن کے اثرات سے اس بار بہار میں رنگوں اور امنگوں کے تہوار ہولی کے بازار کی چمک پھیکی ہو گئی ہے۔ چین سے پھیلے کورونا وائرس کے انفیکشن کے خطرات کو لے کر پورے ملک میں احتیاط برتی جارہی ہے جس کا اثر بہار میں ہولی بازار پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے سپلائی بھی متاثر ہے۔ ساتھ ہی چائنیز سامانوں سے صارفین دوری بنارہے ہیں۔

دارالحکومت پٹنہ، مظفر پور، بھاگلپور سمیت دیگر اضلاع کے مقامی بازار سے چائنیز پچکاری، رنگ، عبیر لگ بھگ غائب ہیں۔ حالانکہ اس بار کی ہولی پھیکی نہ ہو اس کے لئے ہندوستانی کمپنیوں نے ہولی کے لیے بھرپور مصنوعات کو بازار میں اتار دیا ہے۔ لیکن سپلائی کم ہونے کا اثر قیمتوں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔

کورونا وائرس کا اثر دکانداروں کے ساتھ ساتھ صارفین کی سوچ پر پڑا ہے۔ دکانداروں کا کہناہے کہ صارفین چین سے درآمد اشیاءخریدنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔ چائنیز سامانوں کے کم خریدار مل رہے ہیں۔ لوگوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے جس سے ہولی میں لینے والے کوئی بھی سامان کی پہلے جانکاری لیتے ہیں۔ صارفین یہ سوال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ سامان کہیں چائنا سے تو نہیں آیا ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہم لوگوں نے اس بار چین کا کوئی سامان نہیں منگایا ہے اور خریدار بھی چین کا سامان لینے سے پر ہیز کر رہے ہیں۔ لوگوں میں خوف ہے کہ کہیں چین کے سامان سے انفیکشن نہ پھیل جائے۔ ہم نے اس بار نیا اسٹاک نہیں منگایا ہے۔ گذشتہ سال کی بچی پچکاری کے خریدار بھی نہیں مل پارہے ہیں۔ صارفین دکان پر آتے ہی سب سے پہلے لوکل میڈ مصنوعات کا مطالبہ کر تے ہیں۔ اس مرتبہ صارفین ہندوستانی مصنوعات خریدنے کا موڈ بنائے ہوئے ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading