بھیونڈی ۔ انجیکشن کےاوور ڈوز سے حاملہ خاتون کی موت، خاندان والوں کا الزام

ڈاکٹر اور نرس کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اہل خانہ نے کی مانگ

بھیونڈی ( شارف انصاری):- شہر کے آس بی بی علاقے کے کھدان روڈ پر واقع فرنک ہسپتال میں نو مہینے کی حاملہ خاتون کو انجکشن کا اور ڈور دیے جانے کے سبب ڈلیوری کے دوران اس کی تڑپ کر موت ہوجانے کا سنسنی خیز کا معاملہ روشنی میں آیا ہے ۔ جہاں حاملہ خاتون کے شوہر نے الزام لگایا ہے کے ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور اوور ڈوز انجیکشن کے سبب اس کی بیوی کی موت ہوئی ہے ۔
ملی جانکاری کے مطابق کاسر آری بھیونڈی کے مکین کنچن پردیپ گتا 31 نامی خاتون نو مہینے کی حاملہ تھی جسے ڈلیوری کے لئے آس بی بی علاقے کے کھدان روڈ پر واقع فرنک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔ جہاب متوفیہ خاتون کے شوہر نے الزام لگایا ہے کہ خاتون کی دیلیوری آسانی سے ہو اور اسے طبی سہولیات کے لئے ابتدا میں اسے ایک انجکشن دیا گیا اس کے بعد فورا بعد دو انجکشن مزید لگا دیا گیا جس کے سبب انجکشن کا دووز اوور ہو گیا اور کنچن اچانک بے ہوش ہو گئی اور اس کی وہی موت واقع ہو گئی ۔ متوفیہ کنچن کے شوہر پردیپ گپتا نے پولیس کے سامنے الزام لگایا ہے کہ متوفیہ کنچن کی موت کے بابات ڈاکٹر اور نرس سے پوچھ تاچھ میں انہوں نے بتایا کے زیادہ خون بہہ جانے سے موت ہوئی ایسی جانکاری پولیس کو دیتے ہوئے کہا کے ہم نے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ۔ وہیں اسپتال کے ڈاکٹر اور نرس نے متوفیہ کنچن کی غیر ذمہدارانہ طور پر مریضہ کا علاج کرتے ہوئے پوری طرح سے لاپرواہی برتی اور اسے بر وقت انجیکشن کا اوور ڈوز دے دیا ۔ جس سے اس کی موت ہو گئی ۔ پروین گپتا نے ہسپتال انتظامیہ پر سنگین الزام لگاتے ہوئے قصور وار ڈاکٹر کے خلاف فوری طور سے کارروائی کرنے کی مانگ کی ہے ۔ متوفیہ کی موت علاج کے دوران ہونے کے سبب اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اندرا گاندھی ہسپتال بھیونڈی سے ممبئی کے جئے جئے ہسپتال روانہ کردیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں شہر پولیس اسٹیشن نے حادثاتی موت کا معاملہ درج کر لیا ہے ۔ پولیس کے مطابق آخری طبی رپورٹ آنے کے بعد آگے کی کارروائی کی جائے گی ۔اس معاملے کی جانچ پولیس سب انسپکٹر شرد بر کڑے کر رہے ہیں ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading