بھیونڈی ( شارف انصاری):- بھیونڈی شہر کے شانتی نگر علاقہ میں واقع نیو نیشنل اسکول میں گزشتہ روز اسکول کے چیرمین ڈاکٹر نثار احمد کی صدارت میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا .اس پروگرام کا مقصد طلباء وطالبات میں اخلاقی زوال اور اساتذہ ووالدین کی ذمہ داریاں تھا ۔پروگرام کے مہمان خصوصی اور مقرر مولانا محمد اسعد قاسمی نے کہا کہ اس وقت ہمارے نوجوانوں اور طلباء وطالبات کے سامنے کئی طرح کے چلینجز ہیں اور پوری قوم مایوسی و ڈپریشن کا شکار ہورہی ہے جہاں اعلی تعلیم کے لئے بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہیں نوکریوں سے محرومی اور معاشی بدحالی سے لوگ ٹوٹ رہے ہیں لیکن ان مذکورہ باتوں سے بڑھ کر بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہمارے نوجوان اور طلباء بے راہ روی اور غلط عادات ومنشیات کے شکار ہورہے ہیں ۔ہر گھر میں گھروں کے افراد میں اختلاف اور لڑائی جھگڑےکا ماحول بنا ہواہے بیٹا باپ کی نہیں سنتا بیٹی ماں کو نظرانداز کررہی ہے اور جس عمر میں والدین بچوں سے خدمات اور معاشی استحکام کی امید رکھتے ہیں اسی عمر میں بچے آج والدین کے لئے خود مصیبت بن رہےہیں ۔مولانا محمد اسعد قاسمی نے کہا کہ ہم نے گھروں میں بچوں کی تربیت اور نگرانی کرنا چھوڑ دیا چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور برائیوں کو نظرانداز کرتے رہے ہم یہ سوچتے رہے کہ میرا بچا نیک شریف اور بھولا بھالا ہے مگر گھر سے باہر وہ کن بچوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے کیا کھاتا ہے کب آتا ہے کب جاتاہے اس پر دھیان نہیں دیتے ۔مولانا نے کہا کہ صبح اسکول جاتے ہوئے بچوں کو والدین ناشتہ نا دے کر کہتے ہیں کہ ڈبے میں پیسہ رکھا ہے لے لو اسکول میں ناشتہ کرلینا آج اسکولوں میں ستر فیصد بچے بغیر ناشتے کے آتے ہیں اور جو پیسہ گھر سے ملا ہے وہ ناشتہ نہیں بلکہ غلط بچوں اور بگڑی عادات والوں کے ساتھ سگریٹ ۔گٹکھا اور دوسری چیزیں کھاتے ہیں اور دھیرے دھیرے بڑی نشے کے عادی ہوجاتے ہیں اور پھر اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہوجاتی ہے .اور پھر نشیلی خواہشات کی تکمیل کے لیے وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جس کا اب سے پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا گھر میں چوری گھریلو سامان کو بیچنا پھر پڑوسیوں کے گھروں میں چوری پھر بڑے کرائم کرنے والے اور منشیات مافیاوں کے ہاتھ لگ جاتےہیں اور اس طرح پورا گھر پولیس کی نظروں مجرم بن جاتا ہے اور ہمیشہ لوگوں سے منہ چھپانے پر مجبور ہوجاتا ہے اور یہ سب صرف ہماری لاپرواہی اور گھروں میں عدم تربیت کا نیتجہ ہی ہوتا ہے اس لئے بچوں پر نظر رکھیں ان کے بستوں اور جیبوں کی تلاشی لیا کریں اور گھروں سے ملے پیسے کہاں خرچ کئے اس کا حساب بھی لیں ۔

اس پروگرام میں نیو نیشنل اسکول کے پرنسپل جناب مرتضی سر بھیونڈی ادارہ صحت کی میڈیکل افیسر اور اپنا ہاسپٹل کی امراض نسواں کی ماہر ڈاکٹر لبنی انصاری بھی موجود تھیں ۔مرتضی سر اور ڈاکٹر لبنی انصاری نے حاضرین سے بطور خاص اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے کہا کہ اس وقت نو مہینے سے پندرہ سال تک کے سبھی بچوں کو میزلس وروبیلا کا ٹیکہ دیا جارہاہے آپ سبھی اپنے بچوں کو یہ ٹیکہ ضرور کروائیں کسی غلط فہمی کا شکار نا ہوں لبنی انصاری نے بتایاکہ بھیونڈی شہر میں اب تک ایک لاکھ بچوں کو میزلس وروبیلا کا ٹیکہ دیا جاچکا ہے جبکہ پورے مہاراشٹر میں ڈھائی کروڑ سے زائد اور پورے ملک میں بیس کروڑ سے زائد بچوں کو یہ ٹیکہ دیا جاچکا ہے اور کہیں سے بھی کسی تکلیف اور پروبلم کی کوئی بات سننے میں نہیں آئی البتہ کچھ افواہیں ضرور سامنے آئی ہیں مگر وہ صرف افواہ ہے آپ لوگ ٹیکہ ضرور لگوائیں ۔ڈاکٹر نثار احمد چئرمین نیو نیشنل اسکول نے پورے پروگرام کا احاطہ کرتےہوئے کہا مولانا نے ہمارے اساتذہ اور والدین کی توجہ جس جانب مبذول کرائی ہے وہ بہت ہی اہم ہے ہم تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں ورنہ بچے پڑھ لکھ کر بھی مشکلات میں پھنس جائیں گے اور معاشرے کو مشکلات میں ڈال دیں گے بلکہ ڈال رہےہیں