بھیونڈی ( شارف انصاری):-
بھیونڈی شہر کا علمی۔ ادبی۔طبی اور صحافتی حلقہ اس وقت سکتے میں آگیا جب شہر کے معروف معالج ، خطاط و صحافی ڈاکٹر ریحان انصاری کے انتقال کی خبر اہلیان بھیونڈی کو موصول ہوئی۔
اہلیان بھیونڈی و اردو ادب والوں کے لئے یہ انتہائی رنج و غم کا مقام ہے۔آج صبح تقریبا 9 بجے ڈاکٹر ریحان صاحب کو دل کا دورہ پڑا تو بھیونڈی شہر کے مشہور ڈاکٹروں اور ہم جلیسوں نے عیادت کی اور بھیونڈی شہر کی مشہور ڈاکٹر امراض قلب کی ماہر ڈاکٹر ذکیہ اعجاز خان سے رابطہ کیا گیا چونکہ دل کا دورہ شدید تھا حالات کے پیش نظر انھیں تھانے کے ایک اسپتال کرسٹل ہاسپٹل میں داخل کیا گیا جہاں دوران علاج شام کو عصر کے وقت ڈاکٹر ریحان انصاری مولائے حقیقی سے جا ملے۔
پسماندگان میں ان کی بیوہ ، ایک لڑکا اور تین لڑکیاں ہے۔ اللہ تعالی ان کے اہل خانہ کو صبر و جمیل عطا فرمائے۔واضح ہو کے روزنامہ انقلاب کے معروف کالم نگار ، خوش نویش ، معروف آرٹسٹ ، ہفت روزہ بھیونڈی کے صبح وشام کے مدیر اور فیض نوری نستعلیق خالق ڈاکٹریحان انصاری کا انتقال ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا جنم 1962 میں شہر بھیونڈی میں ہوا تھا۔ ابتدائی تعلیم آپ نے ریئس ہائی اسکول میں حاصل کرنے کے بعد ممبئی سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی۔اسی دوران ساتھ ہی ساتھ خطاطی وآرٹسٹ کا بھی سلسلا جاری رکھا۔ آپ بھیونڈی کے مخلص ومعروف سیاست داں وشاعر شبیر احمد راہی صاحب کے برادر زادے تھے۔ ڈاکٹر صاحب رئیس ہائی اسکول بھیونڈی اور مہاراشٹر کالج ممبئی میں ہفتہ میں ایک دن خطاطی ( کیلی گرافی )کی کلاس بھی چلاتے تھے۔
ہفتہ روزہ اخبار بھیونڈی کے صبح وشام کی بہترین تزئین و ترتیب اور ان کی طب پر لکھی کتاب اور فیض نوری نعستلیق پر مہاراشٹر اردو اکادیمی نے ایواڑڈ بھی آپ کو تفویض کیا جا چکا ہے۔آپ کے انتہائی قریبی دوست حنیف رمضان اور سلیم یوسف شیخ نے اردو ٹائمز کو بتایاکہ اس سانحہ عظیم کی وجہ سے بزم یاران ادب کی جانب سے بروز اتوار 13 جنوری کو غلام محمد ویمینز کالج میں منعقدہ ”دور حاضر میں طب یونانی کی اہمیت اور افادیت “کا پروگرام ملتوی کر دیا گیا ہے۔ نماز جنازہ رات گیارہ بجے بھیونڈی شہر کے مرکز ہندوستانی مسجد میں ادا کی جائے گی اور تدفین بھسار محلہ قبرستان میں عمل میں آئے گی یہ اعلان کیا گیا ہے۔
بھیونڈی شہر کا علمی۔ ادبی۔طبی اور صحافتی حلقہ اس وقت سکتے میں آگیا جب شہر کے معروف معالج ، خطاط و صحافی ڈاکٹر ریحان انصاری کے انتقال کی خبر اہلیان بھیونڈی کو موصول ہوئی۔
اہلیان بھیونڈی و اردو ادب والوں کے لئے یہ انتہائی رنج و غم کا مقام ہے۔آج صبح تقریبا 9 بجے ڈاکٹر ریحان صاحب کو دل کا دورہ پڑا تو بھیونڈی شہر کے مشہور ڈاکٹروں اور ہم جلیسوں نے عیادت کی اور بھیونڈی شہر کی مشہور ڈاکٹر امراض قلب کی ماہر ڈاکٹر ذکیہ اعجاز خان سے رابطہ کیا گیا چونکہ دل کا دورہ شدید تھا حالات کے پیش نظر انھیں تھانے کے ایک اسپتال کرسٹل ہاسپٹل میں داخل کیا گیا جہاں دوران علاج شام کو عصر کے وقت ڈاکٹر ریحان انصاری مولائے حقیقی سے جا ملے۔
پسماندگان میں ان کی بیوہ ، ایک لڑکا اور تین لڑکیاں ہے۔ اللہ تعالی ان کے اہل خانہ کو صبر و جمیل عطا فرمائے۔واضح ہو کے روزنامہ انقلاب کے معروف کالم نگار ، خوش نویش ، معروف آرٹسٹ ، ہفت روزہ بھیونڈی کے صبح وشام کے مدیر اور فیض نوری نستعلیق خالق ڈاکٹریحان انصاری کا انتقال ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا جنم 1962 میں شہر بھیونڈی میں ہوا تھا۔ ابتدائی تعلیم آپ نے ریئس ہائی اسکول میں حاصل کرنے کے بعد ممبئی سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی۔اسی دوران ساتھ ہی ساتھ خطاطی وآرٹسٹ کا بھی سلسلا جاری رکھا۔ آپ بھیونڈی کے مخلص ومعروف سیاست داں وشاعر شبیر احمد راہی صاحب کے برادر زادے تھے۔ ڈاکٹر صاحب رئیس ہائی اسکول بھیونڈی اور مہاراشٹر کالج ممبئی میں ہفتہ میں ایک دن خطاطی ( کیلی گرافی )کی کلاس بھی چلاتے تھے۔
ہفتہ روزہ اخبار بھیونڈی کے صبح وشام کی بہترین تزئین و ترتیب اور ان کی طب پر لکھی کتاب اور فیض نوری نعستلیق پر مہاراشٹر اردو اکادیمی نے ایواڑڈ بھی آپ کو تفویض کیا جا چکا ہے۔آپ کے انتہائی قریبی دوست حنیف رمضان اور سلیم یوسف شیخ نے اردو ٹائمز کو بتایاکہ اس سانحہ عظیم کی وجہ سے بزم یاران ادب کی جانب سے بروز اتوار 13 جنوری کو غلام محمد ویمینز کالج میں منعقدہ ”دور حاضر میں طب یونانی کی اہمیت اور افادیت “کا پروگرام ملتوی کر دیا گیا ہے۔ نماز جنازہ رات گیارہ بجے بھیونڈی شہر کے مرکز ہندوستانی مسجد میں ادا کی جائے گی اور تدفین بھسار محلہ قبرستان میں عمل میں آئے گی یہ اعلان کیا گیا ہے۔