بھیونڈی (شارف انصاری):- پاور لوم صنعت کی نگری بھیونڈی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں نے 6 دسمبر کو پرامن طریقے سے بابری مسجد شہادت کی 26 ویں برسی منائی۔ بابری مسجد کی 26 ویں برسی پر شہر کے کچھ مساجد اور کئی چوک پر دوپہر کے بعد اذان دی گئی ۔ جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ بہت سے مقامات میں یہ سیاہ دن کے طور پر منایا گیا ۔ کئی مسلمانوں نے اپنی دکانیں پاور لوم کارخانے اور دیگر ادارے بند رکھے ۔ اس برسی کے دن کو دیکھتے ہوئے شہر میں جگہ جگہ پولیس کا چاق چوبند حفاظتی بندوبست کیا گیا تھا ۔

بھیونڈی شہر کی سنی مرکزی مسجد کوٹر گیٹ پر اذان دی گئی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان شامل ہوئے۔ اس موقع پر بھیونڈی شہر پولیس اسٹیشن کے انچارج دنیش كٹكے، اسسٹنٹ پولیس کمشنر ڈاکٹر كھنڈےراو دھرنے کی موجودگی میں بڑی تعداد میں پولیس فورس بھی تعینات تھی ۔ اسی طرح سانتی نگر کے كےجی این چوک پر دوپہر میں 3 بج کر 40 منٹ پر اذان دی گئی ۔ جس میں بڑی تعداد میں مرد اور کچھ خواتین بھی شامل تھیں ۔ اس اذان سے پہلے سانتی نگر پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر کشور جادھو نے وہاں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے خصوصی طور پر نوجوانوں کو سمجھایا کہ وہ اپنا احتجاج ظاہر کر سکتے ہیں لیکن کسی قسم کی گڑ بڑی نہ کریں۔ اس کے لئے مذکورہ مقام پر پولیس کی جانب سے ڈرون کیمرے اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے تھے ۔ سیکورٹی کے لئے چاک چوبند انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس موقع پرکارپوریٹر سفیان شیخ ، لطیف بابا، ممتاز انصاری،یعقوب، ناصر بھائی، ریاض شیخ، ایوب، سابق کارپوریٹر رمیش دیویكر ،سابق کارپوریٹر دلیپ گلوی ،محبوب باشا شیخ، انیس صدیقی کے ساتھ شانتتا کمیٹی سے منسلک تمام لوگ موجود تھے۔ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی 6 دسمبر کو بابری مسجد شہادت کی برسی پر امن طریقے سے منائے جانے پر بھیونڈی پولیس نے راحت کی سانس لی ۔