بھیونڈی ( شارف انصاری ) :- بھیونڈی لوک سبھا 23 میں بی جے پی اور کانگریس پارٹی میں سیدھی ٹکر ہے۔ لیکن مسلم رائے دہندگان کے ووٹوں کے کٹوا بھی میدان میں آنے سے کانگریس پارٹی کے امیدوار سریش ٹاورے جال میں پھنستے نظر آ رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بھیونڈی لوک سبھا سیٹ پر بی جے پی کا دوبارہ قبضہ ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کی ہمیشہ سے پالیسی رہی ہے کہ پھوٹ ڈالو اور راج کرو اسی طرز پر بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ اور موجودہ امیدوار کپل پاٹل نے مسلم ووٹروں کے ووٹ تقسیم کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے نئے نئے ہتھكنڈے اپنا رہے ہیں ۔ذرائع تو یہاں تک بتا رہے ہے کے کانگریس پارٹی کے کئی بڑے لیڈر بی جے پی امیدوار کپل پاٹل سے سانٹھ گانٹھ کر چکے ہے ۔ اس لئے کانگریسی امیدوار سریش ٹاورے کو کہی شکست کا سامنا نہ کرنا پڑجائے ۔
سماج وادی پارٹی بھی کانگریس پارٹی کو نقصان پہنچانے کے لئے کانگریس پارٹی کے باغی وغدار سابق کارپوریٹر اور سابق ڈپٹی میئر ڈاکٹر نورالدین انصاری کو میدان میں اتارا ہے ۔ غور طلب بات یہ ہے کے بھیونڈی ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے ۔ پہلی بار اس شہر میں اقلیتی سماج کی خاتون میئر بننے جا رہی تھی ۔تاہم اس وقت کانگریسی کارپوریٹر کے عہدے پر رہتے ہوئے موجودہ سماجوادی امیدوار ڈاکٹر نورالدین انصاری نے کانگریس پارٹی سے غداری کر كونارک وکاس اگھاڑی سے ہاتھ ملا لیا تھا ۔ جس کےنتیجے میں اقلیتی سماج سے خاتون میئر بننے سے محروم رہ گئی ۔ اور کونارک وکاس اگھاڑی نے اپنا میئر بنا لیا تھا ۔ جس کے بدلے میں ڈاکٹر نورالدین انصاری کو انعام کےطور پر بھیونڈی کارپوریشن میں ڈپٹی میئر کا عہدہ ملا تھا ۔ لیکن اس کھیل میں اس وقت رہے رکن پارلیمنٹ اور کانگریس پارٹی کے موجودہ امیدوار سریش ٹاورے نے اہم کردار نبھایا تھا ۔
ذرائع کی مانے تو مسلم ووٹروں کے ووٹ میں نقب زنی کرنے کے لئے موجودہ رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی امیدوار کپل پاٹل نے سماج وادی پارٹی سے ڈاکٹر نورالدین انصاری کو میدان میں اتارا ہے ۔ کیونکہ ڈاکٹر نورالدین انصاری کے بی جے پی امیدوار کپل پاٹل کے بھتیجے سمت پاٹل کے بزنس پاٹنر بھی ہے ۔ جب کے دیکھا جائے تو ڈاکٹر نورالدین انصاری کا سیاسی کیریئر لگ بھگ ختم ہوچکا ہے ۔کیونکہ گذشتہ میونسپل انتخابات میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار رہے ڈاکٹر نورالدین انصاری کو منہ کی کھانی پڑی اور وہ الیکشن ہار گئے ۔ بھیونڈی شہر میں غدار رہنما کے نام سے معروف ڈاکٹر نورالدین انصاری کارپوریشن انتخابات میں اپنی شکست سے ناراض ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں بنی غیر قانونی کثیر منزلہ عمارتوں کو منہدم کروانے کیلئے ممبئی ہائی کورٹ میں متعدد مفاد عامہ کی عرضی بھی داخل کیا ہے۔ جس پر کاروائی ہونے کا بعد کسی بھی وقت غریب لوگوں کا بڑا نقصان ہوسکتا ہے جنھوں نے پائی پائی جمع کر کے ان عمارتوں میں گھر خریدا ہے ۔
کانگریس پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ اور موجودہ کانگریس کے امیدوار سریش ٹاورے کے انتہائی قریبی مانے جانے والے کانگریسی کے غدار کارپوریٹر اور سماجوادی امیدوار ڈاکٹر نورالدین انصاری مسلم ووٹروں میں ووٹ کٹوا کے کردار میں بھیونڈی لوک سبھا 23 سے امیدواری کر رہے ہیں۔ کیونکہ جتنا بھی ووٹ سماجوادی کو ملے گا اتنا ہی کانگریس پارٹی کے امیدوار سریش ٹاورے کو نقصان ہوگا ۔ لیکن شہر بھر میں عوامی بحث تو یہی گردش کر رہی ہے کہ سماجوادی امیدوار ڈاکٹر نورالدین انصاری اور بھیونڈی سماجوادی پارٹی کے صدر عرفات شیخ نے بی جے پی امیدوار اور موجودہ رکن پارلیمنٹ کپل پاٹل سے مسلم ووٹ کے بٹوارے کے لئے تو کہی ہاتھ تو نہیں ملا لیا ہے ۔ جو یہ جانتے ہوئے بھی کی ان کی پارٹی کی امیدواری سے صرف بھگوا جماعت کو فائدے کے علاوہ ذرہ بھر بھی نقصان نہیں ہے ۔ پھر بھی الیکشن میں امیدوار اتار کر بھیونڈی سماجوادی صدر عرفات شیخ نے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کرنے میں لگے ہیں ۔
دیکھا جائے تو انتخااب میں حصہ لینے کے بعد سماجوادی پارٹی اور ان کے امیدوار ڈاکٹر نور الدین انصاری سے مسلم ووٹروں میں شدید ناراضگی ہے اور ان میں تشویش ہیں ۔ کینوکہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مسلم ووٹروں کی پہلی پسند کانگریس ہے ۔ اس لوک سبھا انتخابات میں سماجوادی امیدوار ڈاکٹر نورالدین انصاری کو ووٹ کٹوا کے طور پر عوام مان رہی ہے ۔ وہیں مسلم ووٹرس کا ماننا ہے کے شہر میں سماجوی پارٹی ختم ہوتی جارہی ہے ۔ اس کا گھناونہ چہرہ اس الیکشن میں سامنے آ چکا ہے ۔ اسی طرح قوم کا سودا کرنے والی سماجوادی کی سیاست کا پٹارا بھی بہت جلد بند ہوجائیگا ۔