بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی شہر نظام پور شہر مہانگر پالیکا میں گزشتہ 15 سالوں سے پانی کی فراہمی اور بورویل کی مرمت کا کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہ سمیت ضروری سہولیات فراہم کرنے کی مانگ کو لے کر آج یہاں شرمجیوی ریت کامگار سنگٹھنا کے عہدیداران اور ٹھیکیدار ملازمین نے کارپوریشن میں داخل ہو کر میونسپل کمشنر آفس کے سامنے بھیک مانگو تحریک چلائی ۔ اس تحریک میں مداخلت کرتے ہوئے میونسپل کمشنر نے ٹھیکیدار ملازمین کو تنخواہ دینے اور بقایا تنخواہ دینے کی تحریری یقین دہانی کرائی۔ جس کے بعد ملازمین نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ تحریک کو ختم کردیا ۔
بھیونڈی نظام پور شہر مہانگر پالیکا میں ٹھیکیدار ملازمین کی متفرق مانگوں کو لے کر شرمجیوی ريت کامگار سنگھٹنا نے بار بار خط کتابت کرکے انتظامیہ کے سامنے ملازمین کی مانگ کو اٹھاتے رہے ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ انتظامیہ ٹھیکے پر کام کرنے والے ملازمین کے مطالبات کو نہیں مان رہی ہے تو سنجیر کے روز اچانک ملازمین اور ان کا ساتھ دینے والے تنظیم کے عہدیداروں نے میونسپل کمشنر آفس کے سامنے بھیک مانگو تحریک شروع کی ۔ اچانک ملازمین کارپوریشن کمشنر آفس کے سامنے جمع ہوکر تحریک کو دیکھ کر کارپوریشن میں تعینات سیکورٹی اہلکار اور پولیس کے ہوش اڑ گئے۔ پولیس انتظامیہ کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی احتجاجی اپنی مانگ پر قائم رہے۔ اس کے بعد میونسپل کمشنر منوہر ہیرے نے مظاہرین کے وفد سے بات چیت کی اور یہ تحریری یقین دہانی کرائی کی جنوری 2019 کے بعد ٹھیکیداری پر کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ ان کے اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی اور ملازمین کی بقایا 2 ماہ کی تنخواہ 5 دسمبر کے بعد دی جائے گی ۔ اس طرح تحریری یقین دہانی دینے کی معلومات کارپوریشن دفتر کے ڈپٹی کمشنر دیپک كرلیکر نے خود احتجاجیوں کو جائے وقوعہ پر آ کر دی۔ جس کے بعد احتجاج کرنے والے ملازمین میں خوشی کی لہر پھیل گئی ۔ اس تحریک کو شروع کرنے میں شرمجیوی ريت کامگار سنگھٹنا بھیونڈی تعلقہ کے صدر ایڈوکیٹ روہی داس پاٹل، شرمجیوی سنگھٹنا کے بھیونڈی تعلقہ دیہی صدر سنیل لونے، بھیونڈی تعلقہ شہر صدر ساگر دیسک ، تعلقہ سیکریٹری موتی رام نامكوڑا، نائب سیکریٹری گنیش ساپٹے، تعلقہ یوا صدر مکیش بھانگرے پیش پیش رہے ۔
بھیونڈی نظام پور شہر مہانگر پالیکا میں ٹھیکیدار ملازمین کی متفرق مانگوں کو لے کر شرمجیوی ريت کامگار سنگھٹنا نے بار بار خط کتابت کرکے انتظامیہ کے سامنے ملازمین کی مانگ کو اٹھاتے رہے ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ انتظامیہ ٹھیکے پر کام کرنے والے ملازمین کے مطالبات کو نہیں مان رہی ہے تو سنجیر کے روز اچانک ملازمین اور ان کا ساتھ دینے والے تنظیم کے عہدیداروں نے میونسپل کمشنر آفس کے سامنے بھیک مانگو تحریک شروع کی ۔ اچانک ملازمین کارپوریشن کمشنر آفس کے سامنے جمع ہوکر تحریک کو دیکھ کر کارپوریشن میں تعینات سیکورٹی اہلکار اور پولیس کے ہوش اڑ گئے۔ پولیس انتظامیہ کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی احتجاجی اپنی مانگ پر قائم رہے۔ اس کے بعد میونسپل کمشنر منوہر ہیرے نے مظاہرین کے وفد سے بات چیت کی اور یہ تحریری یقین دہانی کرائی کی جنوری 2019 کے بعد ٹھیکیداری پر کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ ان کے اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی اور ملازمین کی بقایا 2 ماہ کی تنخواہ 5 دسمبر کے بعد دی جائے گی ۔ اس طرح تحریری یقین دہانی دینے کی معلومات کارپوریشن دفتر کے ڈپٹی کمشنر دیپک كرلیکر نے خود احتجاجیوں کو جائے وقوعہ پر آ کر دی۔ جس کے بعد احتجاج کرنے والے ملازمین میں خوشی کی لہر پھیل گئی ۔ اس تحریک کو شروع کرنے میں شرمجیوی ريت کامگار سنگھٹنا بھیونڈی تعلقہ کے صدر ایڈوکیٹ روہی داس پاٹل، شرمجیوی سنگھٹنا کے بھیونڈی تعلقہ دیہی صدر سنیل لونے، بھیونڈی تعلقہ شہر صدر ساگر دیسک ، تعلقہ سیکریٹری موتی رام نامكوڑا، نائب سیکریٹری گنیش ساپٹے، تعلقہ یوا صدر مکیش بھانگرے پیش پیش رہے ۔