بھیونڈی:مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹسں نے ریاستی سطح پر عوامی بیداری مہم 

راشننگ محکمے میں خود کو مستحق ثابت کرنے کا فارم پر کر 31 دسمبر تک جمع کریں  
بھیونڈی (شارف انصاری):- مرکزی وریاستی حکومت کا فرض ہے کہ ملک میں کوئی بھی بھوکا نا رہے اور اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے پانچ جولائی ۲۰۱۳ میں مرکزی حکومت نے ایک بل پاس کیا تھا ” ان سرکھشا ” کہ شہر میں رہنے والے وہ تمام افراد جن کی سالانہ آمدنی ۶۰ ہزار سے کم ہو اور گاوں دیہات کے وہ سبھی افراد جن کی سالانہ آمدنی ۴۴ ہزار سے کم ہو انھیں راشن دیا جائے ۔راشن کے مستحقین کی الگ الگ جماعت بنائی گئی اور راشن کارڈ بھی سفید ۔کیسری ۔پیلے رنگ کے علیحدہ بنائے گئے مگر اس میں بڑی تعداد میں غیر مستحقین نے بھی راشن کارڈ بناکر اپنے آپ کو مستحق بنا لیا اور اصلی مستحقین کو کم نقلی مستحقین کو زیادہ اناج ملنے لگا جیساکہ مہاراشٹرا کے وزیر اعلی دیویندرفڈنویس نے خود اپنے ایک بیان میں کہا ہے ۔ ۱۲ اپریل ۲۰۱۸ کو آن لائن کا قانون نافذ کردیاگیا کہ اب انگوٹھا لگا کر ہی راشن دیا جائےگا لیکن آج تک بھی آن لائن کا سسٹم پوری طرح کام نہیں کر پارہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ استحقاق کے باوجود راشن سے محروم رہ جارہے ہیں اور جاری اصول وضوابط کے تحت بڑی تعداد میں لوگ مستحق کی کٹیگری میں خود کو شامل نہیں کر پارہے ہیں جس کی وجہ سے راشن موجود ہونے اور خراب ہوجانے کے باوجود غریبوں اور مزدوروں کو نہیں مل پارہا ہے ۔دوسری طرف سرکاری راشن کی دوکان والے گاہکوں کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں بہانے بناتے ہیں کبھی انگوٹھا میچ نہیں ہوتا اور کبھی آن لائن مشین خراب اور کبھی بجلی نہیں چارجنگ نہیں راشن کی عدم دستیابی کی مسلسل شکایات کے بعد ۲۱ مئی ۲۰۱۸ کو ریاستی سرکار نے سرکیولر ( ہامی پتر )جاری کر ریاست کے مستحقین اور ضرورت مندوں کو آن لائن دستاویزاتی کارروائی کر کے خود کو مستحق ثابت کرنےکی اسکیم جاری کی اور اس کاروائی کی آخری تاریخ ۳۱ دسمبر مقرر کی گئی ہے ۔لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ خود ریاستی سرکار اور ریاست کے راشننگ ڈپارٹمنٹ کے ملازمین افیسران نے اس پوری اسکیم کی معلومات کےلئے نا کوئی عوامی بیداری کا پروگرام چلایا اور نا ہی راشن کی دوکانوں پر ہی کوئی اعلان بورڈ یا پروگرام لگایا ۔ اس لئے اس ضمن میں مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹسں نے ریاستی سطح پر عوامی بیداری سرگرمیاں شروع کی ہیں اور علاقہ وائز کیمپ لگاکر کارنر میٹنگ کرکے لوگوں کو معلومات دے رہے ہیں جیسا کہ آج بھیونڈی شہر ایم پی جے کی ٹیم نے مولانا آزاد نگر کے طیب اسکول میں کیمپ لگا کر معلومات دی اور خود کمپیوٹر سسٹم لگا کر لوگوں کے فارم بھی آن لائن بھرے لیکن یہ سہولت صرف ۳۱ دسمبر تک ہی ہے یعنی اب دس ہی دن رہ گئے ہیں اس لئے ایم پی جے کی ٹیم جس میں تابش خان ۔اختر ۔شبیر بھائی۔ جابر ۔اسلم بھائی ۔اور توصیف نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت کی گوداموں میں راشن خراب ہوکر سڑ رہا ہے اور اتنا اناج اس قدر خراب ہوچکا ہے کہ اسے پھینکنے اور گودام صاف کرنے پر بھی بقول ایم پی جے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپئے خرچ آرہا ہے اس ملک اور ریاست میں بھکمری عام بات ہے لوگ خودکشی کر رہےہیں انھیں کھانا نہیں ملتا اور ریاستی حکومت کی نا اہلی دیکھئے لاکھوں ٹن اناج پھینکا جارہا ہے 
اس ضمن میں بھیونڈی ایم پی جے کی ٹیم نے بھیونڈی راشننگ افیسر گری راج سے ملاقات کی اس لاپرواہی کے سلسلے میں جاننا چاہا تو راشننگ افیسر نے ریاستی سرکار کے فیصلوں اور اسکیموں سے اور حکومت کی طرف سے آفیشل تحریری کی دستیابی سے لاعلمی کا اظہار کیا جو اس وفد نے ان کے پاس موجود کمپلینڈ بک میں بھی موجود ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading