بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی میں آگ لگنے کے بعد اسے بجھانے کے لئے پانی کی کمی کی وجہ سے آگ اپنا بھیانک روپ دکھا رہی ہے ۔ اسی وجہ سے شہر کے بھنڈاری کمپاؤنڈ میں 18 بھنگار کے گوداموں میں لگی آگ کو بجھانے میں 25 گھنٹے کا وقت لگاجبکہ 12 دنوں میں لگی چار آگ کے حادثات اور اس میں پانی کی قلت وہاں کے مکینوں میں ڈر و خوف کا سبب بنا ہوا ہے ۔واضح ہو کے شہر کے بھنڈاری کمپاؤنڈ میں بھنگار کی گودام میں جمعہ کی صبح تین بجے اچانک آگ لگئی گودام میں بڑے پیمانے پر کاغذ کا پٹھٹھا کے ساتھ پلاسٹک کی اشیاء جمع ہونے کی وجہ سے آگ ایک ایک کرکے 18 گوداموں کو اپنی لپیٹ میں لے کر پوری طرح سے جلنے لگا ۔ بھیونڈی اور آس پاس کے ایک درجن سے زیادہ فائر بریگیڈ کی ٹیم کے جوانوں نے 25 گھنٹے کی انتھک کوششوں کے بعد آگ کو مکمل طور پر بجھانے میں کامیاب ہوئےجب تک آگ بجھی کروڑوں کا مال جل کر خاکستر ہو گيا ۔ فائر بریگیڈ ٹیم کے جوانوں کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے آگ بجھانے میں اتنا زیادہ وقت لگا ۔ وہیں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر صحیح طور ہر پانی کا انتظام ہوا ہوتا تو آگ پہلے ہی بجھ گئی هوتی ۔ بتادیں کہ گزشتہ 12 دنوں میں یہاں آگ لگنے کے کل چار واقعات رونما ہوئے ۔ شہر کے راوجی نگر میں آگ لگنے کی وجہ سے چھ موٹر سائیکل جل کر خاک ہو گئی اسی طرح اتوار 23 دسمبر کو بھیونڈی تعلقہ کے گودام اکثریتی علاقہ گوندولی کے ایک گفٹ میٹريل کی دکان میں اتوار کی دوپہر اچانک آگ لگ گئی جس میں دس گودام جل کر خاکستر ہو گئے تھے ۔ جبکہ اس سے پہلے كالہیر میں منڈپ ڈیكوریشن کے ایک گودام میں آگ لگ گئی تھی ۔ ذرائع کے مطابق سبھی جگہ پر آگ نے بھیانک و سنگینی اختیار کر لی تھی جس کی اہم وجہ یا تو آگ بجھانا گئی فائر بریگیڈ کے جوانوں کے دیر سے پہچنا یا پانی کی کمی ہوسکتی ہے ۔ یہی سبب ہے کہ آگ لگنے کے واقعات کے بعد اس کو بجھانے میں لیٹ لطیفی کی وجہ سے آگ سنگینی اختیار کر رہی ہے ۔ جو مقامی لوگوں میں ڈر و خوف کا سبب بن رہا ہے ۔ اتنا ہی نہیں ٹرانسپورٹ اور گودام علاقوں میں ایک بھی فائر بریگیڈ ٹیم کی ایک بھی شاخہ نہ ہونے کی وجہ سے آتشزدگی کے مقام تک پہنچنے میں دیر ہوتی ہے