بھوپال سیمی دہشت گردانہ معاملہ :یو اے پی اے کی منظوری دینے والے سکریٹری غیر حاضر

ممبئی۔12ستمبر۔ (ورق تازہ نیوز)ممنوعہ تنظیم سیمی سے تعلق دہشت گردانہ کارروائی سمیت کئی سنگین الزامات میں برسوں سے قید و بند کی صعو بتیں جھیل رہے شولاپور،اجین،و کھنڈوہ کے نو جوانوں کا مقدمہ اسپیشل سیشن کیس نمبر 2014/541بھوپال کی خصوصی این آئی اے عدالت میں برق رفتاری سے جاری ہے یکے بعد دیگرے استغاثہ کی جا نب سے گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے آج یہاں اس مقدمہ میں ےو اے پی اے کی منظوری دینے والے سکریٹری عدالت میں حاضر نہیں ہوسکے تو اے ٹی ایس نے سکریٹری کے اسسٹنٹ سے ہی گواہی دلوادی جس نے دفاع کی جرح کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ ےو اے پی اے لگانے کی منظوری سکریٹری صاحب نے کن کن بنیادوں پر کیا ہے مجھے معلوم نہیں ہے ،نیز کن دستا ویزوں کے پیش نظر منظوری دی گئی ہے مجھے اس کا علم نہیں ہے اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔

مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آج عدالت میںبھو پال سیمی کےس میں یو اے پی اے کی منظوری دینے والے حکومت مدھیہ پردیش کے سکریٹری غیر حاضر رہے،جس کی جگہ پر اے ٹی ایس نے اسسٹنٹ کو ہی گواہی کے لئے پیش کر دیا جبکہ ملز مین پر یو اے پی اے لگانے کی منظوری دینے کا اختیار صو بائی حکومت کے سکریٹری کو ہی ہے اور اسی کی گواہی کا اعتبار ہو گا۔سکریٹری کے اسسٹنٹ نے دفاع کی جرح کے دوران اس بات کا اقرار کیا کہ کن بنیادوں اور کن دستاویزوں کی وجہ سے سکریٹری صاحب نے یواے پی اے لگانے کی منظوری دی ہے ہمیں کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔ اس مقدمہ کی کاروائی،اورکیس کی سماعت کے در میان کئی ایسی باتیں سامنے آئیں ہیں جس سے استغاثہ کی من گھڑت کہا نی رفتہ رفتہ سامنے آرہی ہے،اس کیس میں کئی قانونی ضابطوں کو نظر انداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کیس کی تحقیق شک کے دائرے میں ہے اس کے علاوہ ملز ین پر مقدمہ درج کرتے وقت کئی اہم قا نونی نکات کی سر عام پامالی کی گئی ہے۔ اس مقدمہ کی پیروی کرنے والے سینر کریمنل لائر ایڈوکےٹ پٹھان تہور خان نے کہا کہ ہماری لیگل ٹیم مدھیہ پردیش اور بھوپال کے تمام دہشت گردانہ مقدمات کو برق رفتاری سے نمٹانے کی کو شش کر رہی ہے،بھوپال کے مقامی وکلاءپر انحصار نہ کرتے ہوئے تمام بڑے کیسیس کی پیروی جمعیة کی خصوصی لیگل ٹیم کر رہی ہے اور باریک بینی سے قانون کی اہم نکات کا برجستہ استعمال کرتے ہو ئے استغاثہ کے خامیوں کو عدالت کےسامنے اجاگرکر رہی ہے،اب تک اس کیس کے زیادہ تر گواہوں کی گواہیاں مکمل ہو چکی ہیںدفاع نے عدالت کے سامنے یہ درخواست کی کہ چونکہ کیس کافی لمبا ہو رہا ہے اس لئے عدالت جلد از جلد اسے نمٹانے کا حکم دے تاکہ ملزمین کو جلد انصاف مل سکے جسے عدالت نے منظور کر لیا ہے،اب اس کیس صرف تین گواہ رہ گئے ہیںبنا بریںامید ہے کہ ملز مین کو جلد انصاف ملے گا۔ اس موقع پر مولانا ندیم صدیقی صدر جمعیة علماءمہا راشٹر نے کہا کہ یہ کافی نازک اور سنگین معاملہ ہے۔مدھیہ پردیش اے ٹی ایس سبھی قانونی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر جسے چاہے جھوٹے اور من گھڑت الزامات میں ملوث کر دیتی ہے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے جس کی وجہ انہیں برسوں تک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ ہماری لیگل ٹیم اس مقدمہ کی عدالت میں مضبوط طریقے پر پیروی کر رہی ہے ہمیں اللہ کی ذات سے امید ہے تاخیر سہی لیکن ان ملز مین کو انصاف ضرور ملے گا۔اس کیس کی پیروی جمعیة لیگل ٹیم کے سر براہ ایڈوکیٹ تہور پٹھان خان کی قیادت میںایڈوکیٹ ساجد علی و ایڈوکیٹ پرویز عالم ودیگر سینئر ایڈوکیٹ صاحبان کر رہے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading