ممبئی:18/ فروری ۔ (ورق تازہ نیوز)ریاستی مسلم برادری کے لیے ایک بڑا جھٹکا سامنے آیا ہے۔ ریاستی حکومت نے مسلم سماج کو دیا گیا 5 فیصد ایس بی سی (SBC-A) ریزرویشن منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں جاری کردہ سرکاری حکم نامہ اور متعلقہ سرکولر بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ مزید برآں، اس زمرے کے تحت جاری کیے جانے والے ذات سرٹیفکیٹ اور ذات کی توثیقی اسناد (کاسٹ ویلیڈیٹی سرٹیفکیٹ) کو بھی رد کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ہائی کورٹ کی جانب سے مسلم ریزرویشن پر عبوری روک (اسٹے) لگائے جانے کے بعد لیا گیا ہے۔ تقریباً 12 سال قبل نافذ کیا گیا یہ ریزرویشن اب باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
سرکاری حکم نامے میں کیا کہا گیا؟
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقے کو "خصوصی پسماندہ زمرہ-اے (SBC-A)” کے تحت سرکاری و نیم سرکاری براہ راست بھرتیوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے 5 فیصد ریزرویشن عام انتظامیہ محکمہ کے آرڈیننس کے تحت دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اقلیتی ترقی محکمہ کے ایک حکومتی فیصلے کے مطابق براہ راست خدمات میں خصوصی پسماندہ زمرہ-اے کے لیے 5 فیصد ریزرویشن نافذ کیا گیا تھا۔
اسی فیصلے کے تحت اقلیتی ترقی محکمہ نے متعلقہ حکومتی احکامات اور سرکولرز کے ذریعے خصوصی پسماندہ زمرہ-اے میں شامل مسلم سماج کو ذات سرٹیفکیٹ اور ذات کی توثیق کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے ہدایات بھی جاری کی تھیں۔
اب حکومت نے ان تمام احکامات اور سرکولرز کو منسوخ کرتے ہوئے مذکورہ 5 فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے کا فیصلہ نافذ کر دیا ہے۔