بچوں کے حقوق سے واقفیت

مندرجات
"بچہ” کون ہے؟
بچہ پر خصوصی توج کیوں ضروری ہے؟
بچوں کے حقوق کیا ہیں۔
اقوام متحدہ کاکنونیشن برائے حقوق اطفال

"بچہ” کون ہے؟

بین الاقوامی قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر ہر انسان ایک بچہ ہے یہ عالمی طورپر منظور کردہ اصطلاح {معنی ہے} جواقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق پر کنونشن(UNCCC) سے آئی ہے اور زیادہ تر ممالک کی منظور کردہ اور مستعمل بین الاقوامی قانونی اصطلاح ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ ہی سے 18 سال سے کم عمر کے افراد کو ایک علحدہ مستقل قانوی طبقہ قبول کیا ہے۔ مختصراً اسی وجہ سے 18 سال کی عمر ہوجانے کے بعد ہی کوئی شخص ووٹ دینے، ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے اور کسی طرح کا قانونی معاہدہ کرنے کا حجاز قرار پاتا ہے۔ چائلڈ میرج ۔۔۔ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی عمر 18 سال اور لڑکے کے لیے 21 سال لازمی قرار دی گئی ہے۔ اسکے علاوہ 1992 میں UNCRC کی منظوری کے بعد سے ہندوستان نے حوویلائن جسٹس کے اپنے قانون کو تبدیل کیا تاکہ 18 سال کی عمر سے کم کے افراد جو حفاظت اور دیکھ بھال کے ضرورت مند ہوتے ہیں کو ریاست میں انصاف فراہم ہوسکے۔.

حالانکہ دیگر قوانین بحی ہیں جو بچہ کی الگ سے تعریف کرتے ہیں اور ابھی بھی انہیں UNCRCکے تحت لانا باقی ہے لیکن جیسا کہ پہلے بتادیا گیا کے لڑکیوں کی بلوغت کی عمر 18سال اور لڑکوں کی 21 سال قانونی طور پر طئے ہے۔
اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دیہات/ شہر/ قصبہ میں 18 سال سے نیچے کے ہر فرد کو بچے کی حیثیت سے سمجھا جائے اور وہ آپکی مدد اور تعاون کا مستحق ہے۔.
ایک فرد کو اسکی عمر بچہ بناتی ہے یہاں تک کہ 18 سال سے کم عمر کوئی فرد شادی شدہ ہو اور اسکے اپنے بچہ ہو تب بھی وہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق بچہ کی حیثیت سے ہی مانا جائیگا۔

اہم نکات

18 سال سے کم عمر تمام افراد بچہ ہیں
بچپن ایک ایسا مرحلہ ہے جس سے ہر انسان گذرتا ہے۔.
بچپن کے دوران بچوں کے مختلف تجربہ/مشاہدہ ہوتے ہیں۔
تمام بچوں کو استحصال اور تشدد سے بچانا ضروری ہے۔.

بچہ پر خصوصی توج کیوں ضروری ہے؟

بچہ جن حالات میں زندگی گذارتا ہے وہ زیادہ خطروں سے دوچار ہوتا ہے۔.
سی لیے حکومت اور سماج کی کاروائی اور عدم کاروائی کے سبب دیگر عمر کے گروپ کے مقابلہ میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔.
زیادہ تر سماجوں میں بشمول ہمارے سماج کے یہ تصور پایا جاتا ہے کہ بچہ انکے والدین کی ملکیت ہوتے ہیں یا دوران بچپن بچہ سماج کے تئیں کردار اداکرنے کے قابل نہیں ہوتا۔.
زیادہ تر سماجوں میں بشمول ہمارے سماج کے یہ تصور پایا جاتا ہے کہ بچہ انکے والدین کی ملکیت ہوتے ہیں یا دوران بچپن بچہ سماج کے تئیں کردار اداکرنے کے قابل نہیں ہوتا۔.
بڑوں کی رہنمائی کی بجائے انکی زندگی کا فیصلہ بڑے کرتے ہیں۔.
چوں کو ووٹ دینے، سیاسی غلبہ اور تھوڑی سی معاشی طاقت حاصل نہیں ہوتی ہے۔ عام طور پر انکی آوازیں سنی نہیں جاتی۔
بچے خاص طورپر استحصال اور تشدد کے زیادہ خطرہ سے دوچار ہوتے ہیں۔

بچوں کے حقوق کیا ہیں۔

ہمارے ملک کی حکومت قوانین اور بین الاقوامی منظور ر کردہ قوانین کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے تمام افراد خصوصی حقوق رکھتے ہیں اور انکے لیے معیاری قوانین ہیں۔.
دستور ہند نے تمام بچوں کو کچھ حقوق دیئے ہیں جو خصوصی طورپر انکے لیے شامل کیئے گئے ہیں۔
6تا14سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی الیمنٹری تعلیم کا حق ۔
14 سال کی عمر تک نقصاندہ ملازمت سے بچنے کا حق ۔آرٹیکل 24
نکی عمر اور طاقت کے علی الرغم انہیں معاشی ضروریات کے تحت کسی پیشہ میں بالجبر شامل کرنے اور انہیں تشدد سے بچانے کا حق (آرٹیکل 39[ای]).
صحت مند ماحول میں اور آزادی اور احترام کے ماحول میں اور بچپن کی حفاظت کی گیارنٹی کے ساتح انکی ترقی کے لیے مساوی مواقع اور سہولیات پہنچانا اور استحصال کے خلاف اور بداخلاقی اور مادی دست کشی کے خلاف نوجوان(آرٹیکل 39[ایف])
اسکے علاوہ انہیں دیگر کسی بھی بالغ مردیا عورت شہری کی طرح ہندوستان کے شہری کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔:
برابری کا حق (حق مساوات) (آرٹیکل [14]).
بھید بھاو کے خلاف حق (آرٹیکل 15)
شخصی آزادی اور قوان کے عمل کا حق (آرٹیکل 21)
جبری مزدوری اور ٹریفکنگ حفاظت کا حق (آرٹیکل 23).
چھڑے ہوئے طبقات کیلئے سماجی ناانصافی اور تمام اقسام کے استحصال سے حفاظت کا حق ۔( آرٹیکل 46).
ریاستی لازمی طور پر:
خواتین اور بچوں کیلے خصوصی انتظام کرے (آرٹیکل (3) 15).
اقلیتوں کے حقوق کاتحفظ (آرٹیکل 29).
عوام کے بچھڑے طبقات میں تعلیم مفادات (کی توسیع آرٹیکل 46).
غذائیت کے معیار اور افراد کے معیار زندگی میں اضافہ اور عوامی صحت میں بہتری (آرٹیکل 47).
دستور کے علاوہ متعدد ایسے قوانین ہیں جنکا اطلاق بچوں پر ہوتا ہے ذمہ دار ٹیچرس اور شہریوں کے طورپر آپ کو ان سے واقف ہونا چاہیئے وہ اس بک لیٹ کے مختلف حصوں میں ان سے متعل

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading