کولکاتا: نئے سال کے موقع پر اپنے ٹوئٹ کی وجہ سے سخت تنقیدوں کے بعد گورنر جگدیپ دھنکر نے اپنے ٹوئٹ کو ڈلیٹ کر دیا ہے۔ گورنر نے نئے سال کے موقع پر اپنے پیغام کو ریکارڈ کرنے کے لئے راج بھون کی لائبریری کی جس میز پر بیٹھے تھے اس کی تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”میں راج بھون کی تاریخی لائبریری کی اس میز پر بیٹھ کر ریاست کے عوام کے لئے نئے سال کا پیغام ریکارڈ کرا رہا ہوں جس پر بیٹھ کر وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے 1905 میں بنگال تقسیم کے معاہدے پر دستخط کیے تھے“۔
It is shocking to see the Governor,WB taking pleasure to greet our people 'while sitting on the iconic table from which Lord Curzon signed' that infamous 'first Partition of Bengal in 1905' ! Wish he knows what happened thereafter. pic.twitter.com/N9Ze628j44
— Surjya Kanta Mishra (@mishra_surjya) December 31, 2019
پہلی مرتبہ بنگال کی تقسیم کے خلاف بنگال کے دانشوروں نے بڑے پیمانے پر تحریک چلائی تھی۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے اس وقت ایک نظم ”بنگلار ماٹی ڈبنگلار جول“ لکھی تھی اور 27ستمبر 1905 کو ٹیگور نے رکھشا بندھن کا اہتمام کیا تھا۔ گورنر دھنکر کا ٹوئٹ سامنے آنے کے بعد سیاسی، سماجی اور اکیڈمک حلقے سے زبردست تنقید کی شروعات ہوگئی تھی۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بنگال کے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوششوں پرتنقید کرتے ہوئے ٹیگور کی نظم کو پوسٹ کیا ہے۔
مشہور مصنف سرندو مکھوپادھیائے نے لکھا ہے کہ گورنر ”تاریخی“ لفظ کا مفہوم نہیں جانتے ہیں۔ ایک اور مصنف پرفل رائے نے کہا کہ ”بنگال تقسیم“ کوئی خوشی کا لمحہ نہیں تھا بلکہ تکلیف کا لمحہ تھا۔ پھر اسے تاریخی کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ ریاستی وزیر پنچایت سبرتومکھرجی نے کہا کہ گورنر کا ٹوئٹ افسوسناک تھا۔ سبرتو مکھرجی نے کہا کہ ”تقسیم ہند کا لمحہ افسوس ناک تھا، اسے ہم فراموش کرنا چاہتے ہیں۔
گورنر جگدیپ دھنکر کے اس ٹوئٹ پر کئی اہم شخصیات نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا، کیا جنرل ڈائر کے عمل کو صحیح ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ کسی نے گورنر سے پوچھا کہ آپ اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ سخت تنقیدوں کے بعد گورنر نے اپنے ٹوئٹ کو ڈلیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجھے بنگال کی وراثت پر فخر ہے۔ ہم رابندر ناتھ ٹیگور کے اتحاد کے جذبے کا قدر کرتے ہیں۔ گورنر کی حیثیت سے ہم بنگال کے عوام کے جذبات اور ان کے حساسیت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
