بلند شہر ہجومی تشدّد ہندوتو بنام ہندوتو کی جنت کا شاخسانہ!

٭ڈاکٹر مشتاق احمدٗپرنسپل ، سی ایم کالج، دربھنگہFB_IMG_1519910916174.jpg
موبائل:9431414586۔ای میل:rm.meezan@gmail.com
اتر پردیش کے بلند شہر میں سیانا پولیس اسٹیشن کے ایک فرض شناس پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کا قتل اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ اب ملک میں ہجومی تشدد بے لگام ہو چکا ہے اور جس کا آغاز مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کے تحت شروع ہوا تھا وہ اب ملک کے کسی بھی شہری کو اپنا نشانہ بنا سکتا ہے ۔ حال کے دنوں میں عدالتِ عظمیٰ نے بھی ہجومی تشدد پر اپنی فکر مندی ظاہر کی ہے اور مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں کو بھی اس کے خلاف ٹھوس اقدام اٹھانے کی ہدایت دی ہے ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اب ہجومی تشدد کے خلاف کوئی بھی حکومت کوئی تادیبی کاروائی کے لئے ذمہ دارانہ کوشش کرنے کو تیار نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ملک کی بیشتر ریاستوں میں جن سیاسی جماعتوں کی حکمرانی ہے وہ کہیںنہ کہیں ہجومی تشدد کو نظریاتی طورپر فروغ دیتی رہی ہے ۔ بالخصوص اتر پردیش میں تو موجودہ حکومت اس طرح کی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے اور اس کا ثبوت پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے بہیمانہ قتل کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد جو سرکاری پریس نوٹ جاری ہوا ہے اس میں پولیس انسپکٹر کے قتل کے ملزموں کی گرفتاری کا ذکر تک نہیں ہے صرف اور صرف گوکشی کرنے والے مبینہ ملزموں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔جب کہ ابھی تک کہیں سے بھی یہ سراغ نہیں ملا ہے کہ جائے واقعات پر کھیتوں میں گائے کے گوشت کے ٹکڑے کس نے پھیلائے۔ مگر پولیس کی دلیل سات افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے ۔اس میں ایک ملزم کا نام صدیف لکھا گیا ہے جو اس گائوں کا رہنے والا ہی نہیں ہے۔ایک شخص ایسا ہے جو گذشتہ دس سالوں سے گائوں سے باہر ہے جب کہ دو معصوم بچے کا نام بھی لکھایا گیاہے ۔یہ سبھی نیا بانس گائوں کے ہیں۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ مقامی بجرنگ دَل کے منڈل صدر یوگیش راج کے ذریعہ ایف آئی آر در ج کرائی گئی ہے جب کہ پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے قتل کے معاملے میں وہ نامزد نمبر ایک ملزم ہے ،وہ فرار ہے ۔اس جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنائی گئی ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے مگر یوگیش راج سوشل میڈیا کے ذریعہ خود کو بے قصور بتا رہا ہے ۔ اب جب کہ اتر پردیش کے ڈی جی پی نے یہ قبول کیا ہے کہ بلند شہر ہجومی تشدد ایک سازش ہے تو اس سازش کو بے نقاب کرنے کی ذمہ داری کس پر ہے ۔
مختصر یہ کہ اترپردیش میں ہجومی تشدد کے ذریعہ سبودھ کمار سنگھ کا یہ پہلا قتل نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی متھرا میں مکل دویدی جو پولیس سپرنٹنڈنٹ تھے ان کو بھی ہجومی تشدد کا شکار ہونا پڑا تھا اور گذشتہ سال سہارنپور کے سینئر ایس پی کی رہائش پر کس طرح ہجومی تشدد نے حملہ کیا تھا وہ سب اتر پردیش کی حکومت اور پولیس انتظامیہ کی نگاہوں میں ہے ۔باوجود اس کے اس تشدد پر سیاست ہو رہی ہے ۔ دراصل اب یہ تشدد ہماری سیاست کا ایک حصہ بن گیا ہے ۔ بالخصوص گجرات اسمبلی انتخاب کے بعد جہاں بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب تو ہوئی لیکن اسے یہ سچائی بھی معلوم ہو گئی کہ اب اس کی زمین کتنی سخت ہورہی ہے اور حالیہ پانچ اسمبلی انتخاب میں بھی جس طرح کا ماحول ہے اور عوام کے اندر جو غم وغصہ ہے اس نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہوش اڑا دئے ہیں ۔ کیو ںکہ اب کانگریس صدر راہل گاندھی بھی ہندوتو کی راہ پر ہیں ۔ راجستھان کے پُشکر مندر میں اپنا گوتر بتا کر سنگھ پریوار کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس کا نظریہ ہندوتو کے خلاف نہیں ہے اور ویسے بھی ان دنوں راہل گاندھی ہندوتو کے تئیں نرم رویہ اپنا رہے ہیں ۔ اس لئے بی جے پی کے لئے ایک بڑا خطرہ یہ بھی ہوگیا ہے کہ کہیں ہندوتو کی طاقت کانگریس کی طرف مائل نہ ہو جائے ۔ نتیجہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو یہ کہنا پڑا ہے کہ ہنومان جی دلت تھے ۔ اب وہ دلت جنہیں کل تک مندروں میں جانے سے روکا جاتا تھا وہ ہنومان مندر پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔یہ سب ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہو رہا ہے ۔ یعنی اب ملک میں جو سیاسی جنگ ہے وہ ہندوتو بنام ہندوتو کی ہے اور اس میں اقلیت طبقہ ان دونوں کے لئے نرم چارہ ہے۔ ایک گھڑیالی آنسو بہاتا ہے تو دوسرا اعلانیہ طورپر اس طبقے کو نشانہ بناتا ہے۔سچائی تو یہ ہے کہ ایک طرف موجودہ حکومت اپنی ناکامیوں کی طرف سے عوام الناس کے ذہن کو منتقل کرنے کے لئے اس طرح کے جذباتی اور مذہبی اشتعال انگیز نعرہ بازی کے ساتھ ساتھ اس طرح کے حادثات سے چشم پوشی بھی کررہی ہے ۔کیوں کہ مندر اور مسجد کے تنازعے میں اب انہیں سیاسی فائدہ کم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔لہذا 2019کے پارلیامانی انتخاب سے پہلے ملک میں مذہبی فرقہ پرستی کی چنگاری کو شعلہ بنانے کے لئے اس طرح کے حادثات در حادثات ہوتے رہیں گے۔ مگر یہ ملک زمانۂ قدیم سے اس طرح کی منافرت پھیلانے والی طاقتوں کو ناکام بھی کرتا رہاہے ۔ جیسا کہ مقتول پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے صاحبزادہ ابھیشک سنگھ اپنے ایک انٹرویو میں پورے ملک سے اپیل کرتے ہوئے کہی ہے کہ’’ اس ہجومی تشدد نے مجھ سے میرے والد کو چھین لیا ہے ہماری ملک کے لوگوں سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ دوسروں کے والد کو ان سے نہ چھینیں اور ملک میں مذہب کے نام پر سازش کرکے اس طرح کے واقعات کو انجام نہ دیں‘‘۔ بلا شبہ غمزدہ والد کے سایہ سے محروم ابھیشک سنگھ نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو زندہ کردیا ہے اور ان طاقتوں پر ان کا بیان ایک بڑا طمانچہ ہے جو مذہب اور ذات پات کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔
بہر کیف!بلند شہر تشدد کے ملزم کون ہیں اور کیا واقعی وہاں گو کشی کرنے والے اقلیت طبقہ کے لوگ ہیں اس کا پردہ فاش تو ایس آئی ٹی کی جانچ سے ہوگالیکن وزیر اعلیٰ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد جو پریس نوٹ جاری ہوا ہے اس سے تو یہ پیغام عام ضرور ہوا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت کی نظر میں پر ہجومی تشدد کے ذریعہ سبودھ کمار سنگھ کی موت کوئی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ گو کشی کرنے والے کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی منشا صاف ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مقتول پولیس انسپکٹر کے خلاف ہجوم کو مشتعل کرنے والا یوگیش راج کب تک سوشل میڈیا پر اپنی نفرت آمیز آڈیو بھیجتا رہتاہے اور ریاستی پولیس اس کی گرفتاری کے معاملے میں خانہ پُری کرتی رہتی ہے ۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ایک پولیس عملہ کی موت ہوتی ہے لیکن اسی محکمے کے دیگر عملے سیاسی بساط کے مہرے بنے ہوئے ہیں ۔ ورنہ اگر واقعی پولیس چاہے تو جو اصل مجرم ہے اس کی گرفتاری یقینی منٹوں میں سکتی ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب کسی ملک یا کسی ریاست کے سربراہ کی نیت یہ ہو کہ اس طرح کے واقعات در واقعات ہوتے رہیں تو پھر پولیس عملے اور دیگر اعلیٰ حکّام تو بے بس ہوں گے ہی ۔ اس طرح کے واقعات کے تعلق سے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے 21جنوری 1942ء کوکاشی ہندو یونیورسٹی وارانسی میں اپنی تقریر میں یہ اشارہ کیا تھا کہ ’’ہندوستان کی تہذیب میں عدمِ تشدد کو مذہب کا درجہ حاصل ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے ملک میں گنگا ایک مقدس ندی ہے جس میں سینکڑوں ندیاں آکر ملتی ہیں اسی طرح اس دیس کی تہذیب میں بھی سینکڑوں تہذیبیں ملتی ہیں ۔ اگر ان سب کا ہمارے لئے کوئی پیغام ہے تو صرف یہ ہے کہ ہم سب کو اپنائیں اور کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھیں‘‘۔آج جب ایک طرف بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر طرح طرح کے سرکاری عہد نامے جاری ہو رہے ہیں ایسے وقت میں ہجومی تشدد کو فروغ مل رہاہے یہ کیسی خراجِ عقیدت ہے مہاتما گاندھی کے لئے کہ جو تمام عمر عدم تشدد کے لئے جد وجہد کرتے رہے اور جن کا خواب یہ رہا کہ ہمارا ملک پوری دنیا میں ایک مثالی ملک ہو وہاں یہ سب کچھ ہورہا ہے ۔یہ ہمارے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے مگر اس پر غوروفکر کرنے کی فرصت کس کے پاس ہے ؟
٭٭

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading