سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو امریکی آبدوز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد سے انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انڈیا میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس کی ترجمان نے اس واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی سیلرز (ملاح) ایک تقریب کے لیے انڈیا آئے تھے، جس کے لیے انڈیا نے انھیں مدعو کیا تھا۔ وہ ہمارے مہمان تھے۔ جب وہ واپس جا رہے تھے تو ایک امریکی آبدوز نے اُن کے جہاز پر حملہ کر کے انھیں ہلاک کر دیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر ’وزیر اعظم مودی کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا۔ یہ بزدلی ناقابل قبول ہے۔ وزیر اعظم مودی کا سمجھوتہ انڈیا کو شرمندہ کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس ایرانی جنگی جہاز نے گذشتہ دنوں انڈیا کی میزبانی میں ہونے والی ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026‘ نامی فوجی مشق میں حصہ لیا تھا۔
بدھ کے روز امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا تھا کہ بحرِ ہند میں موجود ایک امریکی آبدوز نے تارپیڈو فائر کر کے ایران کا جنگی بحری جہاز ڈبو دیا ہے۔پیٹ ہیگستھ کا مزید کہنا تھا کہ منگل (تین فروری) کو کیا گیا یہ تارپیڈو حملہ ایک ’خاموش موت‘ جیسا تھا۔
اس وقت امریکی وزیر دفاع ہیگستھ نے ڈبوئے جانے والے ایرانی جنگی جہاز کا نام نہیں بتایا تھا تاہم اُن کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنا آیا تھا جب سری لنکن حکام نے اپنی سمندری حدود کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس دینا سے 32 افراد کو ریسکیو کرنے اور 80 لاشیں نکالے جانے کی تصدیق کی۔