ایسے ٹیکس دہندگان جن کی سالانہ آمدنی 5 لاکھ روپئے تک ہے، انہیں کسی قسم کا انکم ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ایسے افراد جن کی مجموعی آمدنی 6.50 لاکھ روپئے تک ہے اور انہوں نے پروویڈنٹ فنڈ، مخصوص بچت اور بیمہ وغیرہ میں سرمایہ کاری کی ہے، تو انہیں کسی قسم کا ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔
تنخواہ دار افراد کیلئے سٹینڈرڈ ڈڈکشن کو موجودہ 40 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپئے کیا جارہا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس سے تین کروڑ سے زائد تنخواہ دار اور وظیفہ یافتگان کو 4,700 کروڑ روپئے کا اضافی ٹیکس فائدہ حاصل ہوگا۔
تجویز رکھی گئی ہے کہ ازخود قبضہ والے مکانات یعنی جو اپنے استعمال کے مکانات ہیں ، ان سے حاصل ہونے والی تخمینہ جاتی آمدنی پر انکم ٹیکس میں رعایت دی جائے۔
بینک /ڈاکخانوں میں جمع رقم پر ملنے والے سود پر ٹی ڈی ایس کو 10,000 روپئے سے بڑھا کر 40,000 روپئے کردینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت گھریلو خریداروں پر جی ایس ٹی کا بوجھ کم کرنا چاہتی ہے اور اس کے مطابق جی ایس ٹی کونسل نے اس سلسلے میں جلد از جلد معاملے کی جانچ اور سفارش کرنے کیلئے وزرا ء کا ایک گروپ مقرر کیا تھا۔
پیوش گوئل نے کہا کہ جلد ہی 90فیصد سے زائد جی ایس ٹی دہندگان پر مبنی تاجروں کو سہ ماہی جی ایس ٹی ریٹرن داخل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
#TaxInAntrimBudget2019 #IncomeTax #BudgetUrduNews