بلند شہر:6 ڈسمبر ۔ (ایجنسیز)گزشتہ پیرکویہاں ہوئے تشدد کے پیچھے بجرنگ دل اورکئی دیگرتنظیموں نے گﺅکشی کا الزام لگایا ہے۔ اس تشدد میں مارے گئے یوپی پولیس کے انسپکٹرسبودھ کمارسنگھ کے قتل معاملے میں اہم ملزم یوگیش راج نے بھی ایک ایف آئی آردرج کرائی ہے، جس میں تین دسمبرکی صبح گﺅکشی ہوتے ہوئے دیکھے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔حالانکہ اترپردیش یولیس کے آئی جی کرائم ایس کے بھگت نے اس کہانی پرسوال کھڑے کردیئے ہیں۔ بھگت نے کہا ہے کہ جائے حادثہ سے جوگوشت اورہڈیوں کے ٹکڑے برآمد کئے گئے ہیں، وہ گائے کے ہیں یا نہیں، ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ساتھ ہی ابتدائی جانچ میں 48 گھنٹے پرانے معلوم ہوتے ہیں۔پولیس نے یوگیش راج کی شکایت پرپیرکو گﺅکشی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ یوگیش راج نے پیرکوسیانا پولیس کوتحریردے کربتایا تھا کہ وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیرصبح تقریباً 9 بجے گاوں مہاو کے جنگلوں میں گھوم رہا تھا۔ اسی دوران اس نے نیا بانس کے ملزم سدیف چودھری، الیاس، شرافت، پرویز، (دونابالغ) اورشرف الدین کو گﺅکشی کرتے ہوئے دیکھا، اس کے بعد انہوں نے شورمچا دیا اورملزم بھاگ نکلے۔اترپردیش کے آئی جی کرائم ایس کے بھگت نے یوگیش راج کی ایف آئی آرمیں درج کہانی پرسوال کھڑا کردیا ہے۔ بھگت نے بدھ دیرشام نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ اطلاع کے مطابق جائے حادثہ سے جو گوشت اورہڈیوں کے ٹکڑے برآمد کئے گئے ہیں، وہ ابتدائی جانچ میں 48 گھنٹے پرانے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ فی الحال اس کے گائے کے گوشت ہونے کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگرکوئی جانورکاٹا بھی گیا ہے تو وہ یکم دسمبرکے شام کا واقعہ ہے جبکہ یوگیش کا دعویٰ ہے کہ اس نے تین دسمبرکی صبح 9 بجے گﺅکشی ہوتے ہوئے دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔واضح رہے کہ گﺅکشی کے الزام میں جن 7 ملزمین کے نام ایف آئی آرمیں ہیں، ان میں سے دونابالغ بچے ہیں، جن کی عمر11 اور12 سال بتائی جارہی ہے۔ ایک نابالغ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ ان کو پولیس تھانے لے گئی ہے اورپریشان کررہی ہے۔ دوسرا ملزم بچہ بھی اسی شخص کا بھتیجہ بتایا جارہا ہے۔ ملزم بچوں کے والد نے دونوں کے آدھارکارڈ بھی دکھائے ہیں۔ حالانکہ اس معاملے میں سیانا پولیس کچھ بھی کہنے سے بچ رہی ہے۔