باہر وبا کا خوف ہے گھر میں بلا کی بھوک

ہندوستان میں کورونا وائرس انفیکشن کے بڑھتے اثرات کے درمیان غریب اور مزدور طبقہ کی پریشانیاں بھی لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔اس لاک ڈاؤن نے کئی غریب خاندانوں کو جیسے بکھیر کر رکھ دیا ہے اور کئی گھروں میں فاقہ کشی کی حالت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لیکن ملک میں کئی ایسے شہر اور گاؤں ہیں جہاں ان غریب خاندانوں کی مشکل دور کرنے میں کچھ نوجوان طبقہ اور تنظیمیں بلاتفریق مذہب و ملت پیش پیش ہے،
اور یہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے، کیوں کہ محتاجوں،غریبوں ، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد، معاونت ، حاجت روائی اور دلجوئی کرنا دین اسلام کا بنیادی درس ہے ۔ دوسروں کی مدد کرنے،ان کے ساتھ تعاون کرنے، ان کے لیے روزمرہ کی ضرورت کی اشیاءفراہم کرنے کو دین اسلام نے کار ثواب اور اپنے ربّ کو راضی کرنے کانسخہ بتایاہے ۔ خالق کائنات اللہ ربّ العزت نے امیروں کو اپنے مال میں سے غریبوں کو دینے کا حکم دیا ہے ، صاحب استطاعت پر واجب ہے کہ وہ مستحقین کی مقدور بھر مددکرے۔ قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے ” نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔(سورة البقرةآیت177)،
ایک دوسرے مقام پر قرآن کریم میں سورة البقرہ ہی میں ارشاد ہے” لوگ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں۔ فرما دیجئے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو درست ہے مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتے دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“ ( سورة البقرہ آیت 215)

سماجی بہبود کا بنیادی مقصد معاشرے کے محتاجوں، بے کسوں، معذوروں، بیماروں، بیواوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح وبہبود ہے۔

یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوروی کا خاتمہ کرکے معاشرے میں دولت وضرورت کے درمیان توازن پیدا کیا جائے۔جو لوگ معاشرے سے غربت وافلاس اور ضرورت واحتیاج دور کرنے کے لئے اپنا مال ودولت خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کو اپنے ذمے قرض حسنہ قرار دیتے ہیں۔

لیکن آج ہم دیکھیں اسلام کی روشن تعلیمات سے دور ہوکر ہمارا طرز زندگی، ہمارا طرز معاشرت بہت عجیب سا ہوگیا ہے، بے حسی تو آج کے معاشرے کا معمول بنتی جارہی ہے، ہمیں اپنے رشتہ داروں، ہمسایوں ، ضرورت مندوں کے دکھ درد کا احساس ہی نہیں ہے ۔ ہم خود تو پیٹ بھر کر کھاتے ہیں لیکن برابر میں رہنے والے بھوکے پڑوسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے۔ اس کے بچے روٹی کو ترستے ہیں اور ہم اپنے بچے پر ضرورت سے زائد خرچ کرتے ہیں۔ ہمیں اس بے حسی اور بے جا اصرا ف پر شرمندگی بھی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح معاشرے میں غریبوں کو راشن وغیرہ دینے کا جو انداز اپنایا جاتا ہے وہ بھی قابلِ مذمت ہے۔ کڑکتی دھوپ میں گھنٹوں گھنٹوں مرد، خواتین اور بچوں کو لائنوں میں کھڑا رکھنا، ان سے بد تمیزی کرنا، انہیں دھتکارنا اور بھگدڑ جیسا سماں باندھنا، اپنے گھر، دکان یا فیکٹری کے آگے رش لگوانا اور زیادہ سے زیادہ شہرت ملنے کی امید رکھنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ راشن دیتے وقت تصاویر اور ویڈیو بنوانا پھر ان کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر نشر کروانا اور سوشل میڈیا پر اس کی دھوم مچانابھی انتہائی مذموم فعل ہےنیز ان کی تصویریں ایسے چھپوائی جاتی ہیں جیسے بہت بڑا نیک کام کیا جارہا ہو۔ ایسی حالت میں کوئی اس غریب ماں سے پوچھے کہ اس کے دل پرکیا بیت رہی ہے؟ ایسے موقع پر راشن دینے والے کو سوچنا چاہیے کہ خدانخواستہ اگر یہ صورتحال اس کے کسی گھر والے پر پیش آجائے تو اس وقت اس کا خون کس قدر کھولے گا۔ غریب کی مدد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی غربت کا شور مچایا جائے۔

ہمیں فلاح انسانیت کے لئے اپنا طرز زندگی بدلنا ہوگا ۔ جیسا کہ صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے کہنے پر اپنی جان ومال اپنے مسلمان بھائیوں پر نچھاور کرنے کیلئے ہمہ وقت تیا ر رہتے تھے، اسی طرح آج ہمیں بھی اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ، ہمیں غور کرنا چاہیئے کہ رشتہ داروں ، غرباءو مساکین ، ہمسایوں اور ملازمین کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیسا ہے ۔ کہیں ہم اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کرکے جہنم کا ایندھن بننے کی تیار ی تو نہیں کررہے ۔ آج ہمیں خود کو نکھارنے ، اور اپنے اندر اعلیٰ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔

اپنے لئے تو سبھی جیتے ہیں ، کیوں نہ دوسروں کے لئے جیا جائے ، دوسروں کی مشکلات ومسائل کو محسوس کرتے ہوئے ان کا ہاتھ بٹایا جائے ۔ ہماری مدد و معاونت سے اگر کسی کی جان بچ سکتی ہے، کسی کی مشکل آسان ہوسکتی ہے ، کسی مجبور کا علاج ہوسکتا ہے ، کسی کے حصول رزق میں معاونت ہوسکتی ہے ، کسی مجبور کی بیٹی کی شادی ہوسکتی ہے ، کسی کے بچوں کا طرز زندگی بہتر ہوسکتا ہے ، کسی کو حصول علم میں مدد دی جاسکتی ہے تو یہ ہمارے لئے باعث اعزاز اور باعث راحت ہے ۔لہٰذا ہمیں لاک ڈاؤن میں اپنی زندگی کو اس انداز سے گزارنے کی کوشش کی جائے کہ دین و دنیاکی خوشنودی کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان بھی حاصل ہو ، یہی حقیقی زندگی ہے

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت ہے اور معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا،غم گساری کرنا،خصوصا بھوکوں کو کھانا کھلانا رب کی محبت و خوشنودی کا اہم ترین ذریعہ ہے،اس لئے میری گزارش ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہر طرح کی آفات،بلاؤں اور آزمائشوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی بتائ ہوئ ترکیب،استغفار ، دعاء جیسے ہتھیار اور صدقہ جیسے ڈھال کو بھی بروکار لائیں ،، الصدقۃ لتطفی غضب الرب (ترمذی) صدقہ اللہ کی ناراضگی کی آگ کو بجھا دیتی ہے نیز یہ ہے کہ صدقہ سے بلائیں بھی ٹلتی اور بیماریاں بھی دور ہوتی ہیں،

اس شعر کے ساتھ اپنی بات اختتام کرتا ہوں

باہر وبا کا خوف ہے گھر میں بلا کی بھوک
کس موت سے مروں میں ذرا رائے دیجئے

اسرارالحق عبدالعادل عالیاوی
استاد الہدیٰ انٹرنیشنل اسلامک اسکول شیموگہ کرناٹک 7667170415

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading