ضمیر کے سوداگر! مسلمانوں کو شرعی موقف سے دستبردار کرنے میں ناکام رہیں گے
غلام مصطفٰی رضوی نوری مشن مالیگاؤں
اسلام کے نزدیک کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کی جگہ نماز پڑھنا منع ہے۔ تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ مسلمان حکمرانوں نے کسی مندر یا معبد باطل کو ڈھا کر مسجد بنائی ہو۔ بابری مسجد کا ہی معاملہ لیجیے، یہ کہنا کہ اسے مندر کے مقام پر بنایا گیامحض ہوائی فائرنگ ہے، ٹھوس ثبوت اب تک پیش نہ ہوئے تو ماننا پڑے گا کہ مسجد کسی مندر کی جگہ نہیں بنائی گئی۔ انگریز کی پالیسی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی تھی اور یہ کہ مسلمان کو نقصان پہنچایا جائے، ایک انگریز نے تاریخ گری کی، بابری مسجد سے متعلق زہر اُگلا کہ وہ مندر توڑ کر بنائی گئی، صنم کے پجاریوں نے مسلم دشمنی میں تسلیم کر لیا، اور پھر بابری مسجد سے متعلق خواہ مخواہ تنازعہ کھڑا کیا گیا۔ اس بابت ہمیں اسلام کا فیصلہ بھی دیکھ لینا چاہیے، اس لیے بھی کہ ایک مسلمان کے لیے اسلامی قانون فوقیت رکھتا ہے، اور مذہبی آزادی کا بھی یہی مطلب ہے کہ مذہبی احکام پر عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکے ۔
تقریباً 80برس قبل لاہور میں مسجد شہید گنج کا سانحہ پیش آیا، تشدد پسند سکھوں نے مسجد شہید کردی، بابری مسجد کا سانحہ بھی ایسا ہی ہے، اس موقع پر مسلمانوں نے اسلامی حکم معلوم کرنے کے لیے بریلی کے مرکزی دارالافتا سے رجوع کیا، مفتی اعظم ہند مولانا مفتی مصطفی رضا خاں نے فتویٰ دیا جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ : ’’لاہور کی مسجد شہید گنج ہو یا کہیں کی کوئی مسجد جو مسجد ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہے، اس کی مسجدیت کبھی کسی وقت نہیں جا سکتی، مسجد کے شہید کر دینے سے اس کی مسجدیت باطل نہیں ہو سکتی۔‘‘ (فتاویٰ مصطفویہ،ص۲۴۴، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
پھر آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسجد اگرچہ زیادتی سے کفار اپنے قبضہ میں کر لیں تب بھی مسجد مسجد ہی رہے گی، مثال میں آپ نے خانۂ کعبہ کا ذکر کیا جہاں ایک عرصہ تک توحید کے دشمنوں نے پوجا کی لیکن وہ اللہ کا گھر تھا، آقائے کائنات مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اور اسے ان سے پاک فرمایا، مفتی اعظم فرماتے ہیں:
’’وہ مسجد جیسے شہید ہونے سے پہلے مسجد تھی یوں ہی اب بھی مسجد ہے اور قیامت تک مسجد رہے گی، عیاذاً باللہ کافروں کے قبضہ میں مسجد آجانے سے کسی کے نزدیک اس کی مسجدیت نہیں جاتی، کعبہ برسہا برس قبضۂ کفار میں رہا جس کے گرد اگرد مشرکوں نے 360 بت رکھے، ہر دن ایک نئے بت کی پوجا کرتے اس قبضہ سے کعبہ غیر کعبہ نہیں ہو گیا، وہاں بتوں کے نصب کرنے اور پوجا ہونے سے قبلہ بت خانہ نہیں بن گیا۔‘‘(نفس مصدرص۲۴۴۔۲۴۵) اسی طرح بابری مسجد بھی فرقہ پرستوں کے رام مندر کہہ دینے سے مندر نہیں بن جائے گی مسجد ہی رہے گی۔ اب افسوس کا مقام یہ ہے کہ عدلیہ نے ملک کی اکثریت کا خیال رکھا اور مسجد کو بجائے ان کے سپرد کرنے کے جن کا حق تھا، اسے رام جنم بھومی قرار دیا یہ کیسا انصاف ہے، کیا یہ فیصلہ جمہوری اقدار کے منافی نہیں؟ یہ سوال قائم رہے گا کیوں کہ شواہد مسجد کی مسجدیت پر دلالت کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ1992ء میں فرقہ پرستوں نے دن دہاڑے مسجد کو شہید کر کے سیکولرزم کو پامال کیا، اورجمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا حالاں کہ مسلمانوں نے استقلال سے کام لے کر قانونی راستہ اختیار کیا، اس کے باوجود اب تک وہ جنونی آزاد گھوم رہے ہیں، انھیں قانون کے شکنجے میں کسا نہیں گیا، حالاں کہ مسجد شہید کرکے دنیا کی سب سے عظیم جمہوریت کا گلہ انھوں نے گھونٹا تھا۔ اور پوری دنیا میں ہندوستان کی بدنامی کروائی تھی۔ اس شہادت کے بعد بھی اسلام کے نزدیک مفتی اعظم کے فتوے کی روشنی میں بابری مسجد ’’مسجد‘‘ ہی ہے، آپ لکھتے ہیں:
’’اسی طرح مسجد کا وہ بقعہ طاہرہ(مقدس حصہ) جو خالصاً للہ تعالیٰ برائے طاعت و قربت وقف کیا گیا وہ… ویسا ہی مسجد شہید ہوجانے کے بعد اب بھی ہے، اصل مسجد تو وہ موضع صلاۃ ہے، عمارت ہو یا نہ ہو جو جگہ مسجد ہو گئی مسجد ہی رہے گی…‘‘(نفس مصدرص۲۴۵) ملک کے متوازن فکر رکھنے والے مشاہیر ہائی کورٹ کے فیصلے کو تعجب سے دیکھ رہے ہیں، انھیں حیرت ہے کہ جمہوری اقدار کو کس طرح پس پشت ڈال دیا گیا، قانونی باریکیوں سے آگاہ جسٹس سچر نے بھی فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا،

رہی یہ بات کہ مسلمان بابری مسجد کے مقام کو ’’رام جنم بھومی‘‘ مان لیں تو یہ ایسا ہی ہے کہ مسجد کی مسجدیت سے مسلمان انکار کر دیں، ظاہر سی بات ہے کہ ایسا تسلیم کرنا گویا مسجد کا انکار کرنا ہے اور یہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف، یہ عمل اسلام کے نزدیک مسجد کی توہین ہے ، مسجد کی توہین دین کی توہین ہے، مفتی اعظم فرماتے ہیں: ’’مساجد بیوت اللہ (اللہ کا گھر) ہیں اللہ کے دین کا عظیم شعار ہیں اور کسی شعار دین کی ادنیٰ سے ادنیٰ ہتک ہرگز مسلمان برداشت نہیں کر سکتے، بے شک بے شک شعار دین پر حملہ دین پر حملہ ہے… مسجد کی حفاظت و صیانت فرض مبین ہے۔‘‘ (نفس مصدرص۲۴۷)
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے ان پر قانونی شکنجہ کسا جاتا جنھوں نے مسجد کو دن کے اجالے میں شہید کیا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا، اقلیتوں کے ساتھ اس طرح کا مذاق یقینا جمہوری اقدار کی پامالی ہے۔ اب ان کی بھی زیادہ ذمہ داری ہے جو سپریم کورٹ میں مقدمہ لے جانے کے مجاز ہیں کہ وہ قانونی لحاظ سے مسجد کی مسجدیت کو ملحوظ رکھ کر صحیح فیصلے کے حصول کے لیے کامیاب جدوجہد کریں تا کہ پھر آئندہ کسی مسجد کی شہادت کی جسارت فرقہ پرست نہ کر سکیں، اس سلسلے میں جمہوری اقدار کے دائرے میں قانونی کدوکاوش ضروری ہے، اس لیے بھی کہ:
اپنے کعبہ کی حفاظت تمھیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا