بابری مسجد کی تعمیر نو، پرسنل لا میں عدم مداخلت،پلوامہ حملہ کی مذمت، آسام شہریت ترمیم 2019 بل پر تجاویز پاس

 آل انڈیا امامس کونسل کی قومی عمومی مجلس عاملہ نے ملک بھر میں ہورہے قتل اور بدامنی کو اشتعال انگیزی کا نتیجہ قرار دیا
پتھانتھانی ( کیرلا):یکم مارچ(ای میل) آل انڈیا امامس کونسل کی نیشنل جنرل کونسل کی دو روزہ میٹنگ مالابار ہاو¿س، کیرلا میں منعقد ہوئی۔ جس پورے ملک کی 15 ریاستوں کے ذمہ داران اور کمیٹی ممبران شریک ہوے۔ پہلے دن میں کونسل کی نئی دوسالہ میعاد کے لیے نئے لیڈران کا انتخاب عمل میں آیا، جس میں قومی صدرمولانا محمد احمد بیگ ندوی ، استاد : دارالعلوم ندوة العلماء(لکھنو¿، یوپی) ، قومی نائب صدر: مولانا اشرف کرمنا باقوی (کیرلا) قومی جنرل سکریٹریز: مولانا فیصل اشرفی (کیرلا)، مفتی حنیف احرارسوپولوی (گوا)،سکریٹریز:مولانا مقسوم ندوی (یوپی) مولانا جعفر فیضی (کرناٹک) اور قومی خازن:مولانا شاہ الحمید باقوی (تاملناڈو) منتخب کیے گئے ۔ کونسل نے اپنی نشست کے اختتام پر بی جے پی کے دورِ حکومت میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور انسانی بے حرمتی اور حقوق کی پامالی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔نیشنل کونسل میں پورے ملک سے تشریف لائے تمام جنرل کونسل ممبران نے درجِ ذیل تجاویز کو منظوری دیں۔
(۱) آسام شہریت ترمیم بل 2019 بل غیر قانونی:قومی عمومی مجلس عاملہ بی جے پی حکومت کے جانب دارانہ اقدام کی پر زور مذمت کرتی ہے ۔آسام کے خلاف جو عدم شہریت بل پاس کیا گیا ،وہ ایک کمیونٹی کے لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے کی گندی سیاست کا حصہ ہے؛ اس کے خلاف 64 تنظیموں اور 12 طلبہ یونین کے پروٹیسٹ پر ان کے خلاف دیش دروہی کا مقدمہ درج کرانے کو حکومت کی من جانی اور جمہوری قانون کے خلاف سمجھتی ہے۔ اور مطالبہ کرتی ہے کہ آسام شہریت ترمیم بل 2019 اور 2016کو کالعدم قرار دیا جائے ؛ تاکہ ہندستانی شہری اپنے ہی ملک میں حقوق سے محروم نہ رہیں۔
(۲) 10 فیصد ریزرویشن محروم طبقات کے ساتھ بھونڈا مزاق :موجودہ بی جے پی حکومت نے پانچ سالوں میں آرڈیننس جاری کر کے عوام اور دستور مخالف بہت سے غیر قانونی فیصلے کیے ہیں۔ ہم جنس پرستی، ناجائز تعلقات، طلاق بل،وغیرہ۔ اعلی ذات کے لوگوں کو 10 فیصد ریزرویشن کا اعلان بھی اسی کا حصہ ہے۔جس کی وجہ سے ریزرویشن کا دائرہ قانونی حدبندی سے بڑھ جاتا ہے؛ جب کہ قانونی طور پر ریزرویشن 50 فیصد سے زیادہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔ قومی کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ پسماندگی کی بنیاد پر مسلم کمیونٹی جو اس وقت سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہے کو ان کی آبادی کے
تناسب کے لحاظ سے ریزرویشن دیا جائے۔
(۳) بابری مسجدکو دوبارہ اسی جگہ تعمیر کیا جائے اور لبراہن کمیشن کے پیش کردہ مجرمین کو سزا دی جائے۔ ”بابری مسجد“ ملک کا پانچ سو سالہ پرانا سرمایہ ہے ۔ یہ اس ملک کی جمہوریت کی نشانی ہے۔ جس کو سیاسی ایجنڈہ بنا کر کارسیوکوں کے ذریعے ۶ دسمبر ۲۹۹۱ءکو شہید کر دیا گیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ لبراہن کمیشن نے جن لوگوں کو انہدام کا مجرم قرار دیا ہے ان کو ابھی تک قانونی طور پر گرفتار بھی نہیں کیا گیا اور نہ ہی سزا دی گئی۔اس لیے قومی جنرل کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ بابری کے مجرموں کو قانونی سزا دے اور بابری مسجد کو دوبارہ اسی جگہ تعمیر کیا جائے اور ملک میں جمہوریت کو بحال کیا جائے۔کونسل کانگریس پارٹی سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بابری مسجد پراپنے نظریہ کی وضاحت کرے۔
(۴) مسلم پرسنل لا میں مداخلت:عورتوں کے تحفظ اور آزادی کے نام پر ، پرسنل لا میں مداخلت اور طلاق، حلالہ، خلع جیسے اصطلاحی اور خالص مذہبی الفاظ کی غلط تشریح کر کے میڈیا میں اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ملکی آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف اور تمام ہندستانیوں کے مذہبی حقوقِ آزادی کے خلاف خطرناک سازش ہے۔قومی عمومی مجلس عاملہ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت طلاق بل واپس لے اور مذہبی معاملات میں مداخلت سے باز آئے۔
(۵) پلوامہ حملہ قابل مذمت، واویلا مچاکر مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنے کی سازش کو بند کیا جائے: پلومہ میں فوجیوں پر حملہ یقینا ہمارے دیش پر حملہ ہے ، اس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں اور اس کے حقیقی مجرمین کو سزا دیا جانا تمام ہندستانیوں کی آواز ہے؛ لیکن اس کو بہا نہ بنا کر جب کہ ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا ، مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنا اور کشمیریوں کو پکڑ پکڑ کر مارپیٹ کر نا انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل کی نیشنل جنرل کونسل ، حملے کی مذمت کرتی ہے ۔ مجرموں کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دےنے اور مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنے کے رویے سے باز آنے کامطالبہ کرتی ہے ۔
(۶) 2019 کے الیکشن میں ملک مخالف ایجنڈے پر کام کرنے والی بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کے لیے ووٹ ڈالیں: ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے ، یہاں کا دستور دنیا کا سب سے عظیم دستور ہے۔ لیکن بی جے پی حکومت دستور کو ختم کرنے اور ہندتوا وادی راشٹر بنانے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ ملکی عوام کو مذہب اور مختلف عنوان پر لڑا کر ، انھیں کمزور کرکے ، ڈراکے حکومت میں بنے رہنے کی ہر طرح کی سازش کر رہی ہے؛ اس لیے تمام برادرانِ وطن سے اپیل کی جاتی ہے کہ آنے والے ۹۱۰۲ کے الیکشن میں بلاتفریق مذہب و ملت متحد ہو کر بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔
اس کے ساتھ ہی ۷۲ تاریخ کی صبح سے شروع ہونے والی نیشنل جنرل کونسل ۸۲ فروری کی شام پانچ بجے اختتام پذیر ہوئی۔اور تمام ذمہ داران نئے حوصلوں اور عزائم کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading