بابری مسجد میں چوری چھپے مورتیاں رکھنے مسلم تنظیموں کا الزام

نئی دہلی 3 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) منصوبہ بند انداز میں اور چوری چھپے مورتیاں ایودھیا میں بابری مسجد کے اندر رکھی گئیں جبکہ ڈسمبر 22 اور ڈسمبر 23 ، 1949 ء کی درمیانی شب تھی۔ بعض عہدیداروں نے ہندوؤں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اِن مورتیوں کو ہٹانے سے انکار کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اجلاس پر منگل کے دن بابری مسجد مقدمہ کی مسلسل اٹھارویں دن سماعت کے دوران مسلم فریقین نے یہ بیان جاری کیا۔ بابری مسجد میں مورتیوں کا ظاہر ہونا کوئی کرشمہ نہیں تھابلکہ منصوبہ بند اور چوری چھپے ایسا کیا گیا تھا۔

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading