بابری مسجد معاملہ کی سنوائی آخری دور میں، ۱یودھیا میں 10 دسمبر تک دفعہ 144 لاگو

کئی طرح کے دلائل اور گرم نرم بحث کے بعد بابری مسجد معاملہ کی سپریم کورٹ میں سنوائی اپنے آخری دور میں داخل ہو گئی ہے اور آج سنی وقف بورڈ کے سینئر وکیل راجیو دھون آخری بار اپنے دلائل پیش کریں گے۔ راجیو دھون کے دلائل پر جمعہ تک یعنی 18 اکتوبر تک دیگر وکلاء سوال جواب کر سکتے ہیں اور اس کے بعد ایک ماہ کے اندر سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنا دے گا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے میں ابھی تقریبا ایک ماہ ہے لیکن اتر پردیش حکومت نے ایودھیا میں دفعہ 144 لگا دی ہے ۔ دفعہ 144 لگانے کی وجہ تیوہار بھی ہیں ۔

واضح رہے اس دوران انتظامیہ کسی بھی طرح کی وہاں پر ٹی وی ڈبیٹ ، کشتی کے چلائے جانے اور ڈرون شوٹنگ کی اجازت نہیں دے گا۔ سپریم کورٹ میں چل رہی سنوائی کی وجہ سے انتظامیہ حرکت میں ا ٓ گیا ہے اور خبر ہے کہ اس دوران اسکول بند کرانے کی بھی تیاری چل رہی ہے ۔انتظامیہ نے دو سو اسکولوں کی نشاندہی کی ہے جہاں پر اضافی سلامتی دستوں کے ٹھہرنے کا انتظام کیا جائے گا۔

تہواروں اور بابری مسجد – رام جنم بھومی معاملے پر عدالت عظمیٰ کے جلد سنائے جانے والے فیصلے کے پیش نظر ایودھیا میں حفاظتی انتظامات کو سخت کیا جا رہا ہے۔ریاستی حکومت کی طرف سے دیوالی سے ایک شام قبل منعقد کئے جا رہے تین روزہ ’دیپوتسو‘ پروگرام میں بھی بھیڑ امنڈنے کی امید ہے۔ ضلع پولس اور مقامی خفیہ یونٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، دھرم شالہ، لاج اور ہوم اسٹی کی جانچ شروع کریں اور وہاں کام کرنے اور رہنے والے لوگوں کے شناختی کارڈ کی تصدیق کریں۔ خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے خطرے کی اطلاع کے پیش نظر سیکورٹی سخت کی جا رہی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading