لکھنؤ: اترپردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ نے جمعرات کو ریاستی راجدھانی میں ہوئی میٹنگ میں ایودھیا میں عدالت کی جانب سے دی گئی پانچ ایکڑ زمین پر مسجد کی تعمیر اور اس پر دیگر رفاہی تعمیرات کی دیکھ بھال کے لئے مجوزہ ٹرسٹ کے اعلان کو مؤخر کردیا ہے۔ مجوزہ ٹرسٹ مسجد کے ساتھ رفاہی اسپتال اور عوامی لائبریری کی بھی تعمیر کرائے گا۔ مجوزہ ٹرسٹ کا نام’انڈو اسلامک کلچر سنٹر‘ رکھے جانے کا امکان ہے۔
بورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ٹرسٹ کو منظوری دینے کی میٹنگ کو ملتو ی کردیا گیا ہے اور اب یہ اس مہینے کے آخر میں منعقد ہوگی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں متعدد ریگولر مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ معمول کے مطابق ہونے والی ماہانہ میٹنگ تھی۔ اس میں ٹرسٹ کے قیام کے مسئلے پر غورو خوض نہیں کیا گیا۔
فاروقی نے کہا کہ ٹرسٹ کی تشکیل عام رضا مندی کے ساتھ ہوگی اور سلسلے میں بورڈ اراکین میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ وہیں ذرائع نے بتایا کہ ٹرسٹ 10 اراکین پر مشتمل ہوگا جن میں سے اکثریت سنٹی وقف بورڈ سے ہوں گے۔وہیں بورڈ کے چئیرمین کو ہی ٹرسٹ کا چیئر مین بنایا جاسکتا ہے۔ دومسلم اسکالرس کو شامل کرنے کے امکانات ہیں۔
موجود بورڈ ممبران کی میعاد کار 31 مارچ کو ختم ہورہی ہے اس لئے قیاس ہے کہ نئے بورڈ اراکین کی تقرری کے بعد ٹرسٹ کا اعلان آئند ہ ماہ کیا جائے۔ ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق زفر فاروقی کے فیصلے کی مخالفت کرنے والے بورڈ رکن عمران معبود اور عبدالرزاق کو ٹرسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر رام مندر تعمیر کرنے اور بابر مسجد کے لئے ایودھیا میں کسی نمایا مقام پر 5ایکڑ زمین فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
فیصلے کے بعد اس بات پر کافی پش وپیش تھا کہ بابری مسجد کے نام پر دوسری جگہ زمین کو قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اس ضمن میں مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے اپنا موقف صاف کرتے ہوئے بابری مسجد کے لئے کسی دوسری جگہ متبادل زمین نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے اسے شریعت کے خلاف بتایا تھا۔
لیکن حکومت کی جانب سے بابری مسجد کے لئے پانچ ایکڑ زمین تجویز کے بعد اس کی نوٹس سنی وقف بورڈ کو بھیجے جانے پر بورڈ نے اپنی میٹنگ میں بابری مسجد کے لئےدوسری جگہ پر زمین کو یہ کہتے ہوئے منظور کرلیا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نہیں جاسکتے۔
حکومت کی جانب سے ایودھیا میں دور دراز علاقے میں زمین فراہم کرنے پر بھی کئی لوگوں نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔ ا س ضمن میں بابری مسجد کے مدعی اقبال انصاری نے بھی اپنی مخالفت درج کراتے ہوئے اصل ایودھیا میں ہی زمین فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے جس جگہ پر زمین فراہم کی گئی ہے اسے عدالت کے منشی کے خلاف قرار دیا تھا۔
حکومت کی جانب سے دی گئی زمین منظور کرلینے کے بعد سنی وقف بورڈ کو اس زمین پر تعمیرات کی دیکھ بھال کرنے اور اس کی سرگرمی کو بروئے کار لانے کے لئے ٹرسٹ کا اعلان کر نا ہے۔خبر تھی کہ سنی وقف بورڈ آج کی میٹنگ میں ٹرسٹ کا اعلان کرسکتا ہے لیکن اس نے اس فیصلے کو آئندہ میٹنگ تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو