عراق میں سعودی عرب اور امریکہ کے حملوں میں ایرانی شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات، تہران نواز مسلح گروہ کی ریاض کو ’سخت جواب‘ کی دھمکی

عراق میں بدھ کی صبح سعودی عرب اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی میں ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز اور فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بدھ کی صبح عراق میں سعودی عرب اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی میں کُچھ ایرانی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

مہر نیوز کے مطابق ان اس کارروائی میں ہلاک ہونے والے افراد میں پاسدارانِ انقلاب کے چار اراکین بھی شامل تھے۔ دوسری جانب اے ایف پی کو عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورس کے حکام نے بتایا ہے کہ وسطی عراق کے صوبے دیالہ میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ ایرانی شہری شامل ہیں۔اس سے قبل پاپولر موبلائزیشن فورس نے ایک بیان میں کہا کہ ’ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔‘

اے ایف پی کے صحافی کے مطابق بغداد میں انھوں نے نمازِ جنازہ کے وقت کُچھ تابوتوں کو ایرانی جھنڈے میں لپٹے دیکھا ہے۔ایران نے عراق پر سعودی عرب اور امریکہ کے حملوں کی مذمت تو کی ہے تاہم ایرانی شہریوں کی ہلاکت پر اُس کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔رواں برس مئی میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں قائم واشنگٹن کے فوج اڈے تہران کے نشانے پر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک ایران کے خلاف مذمتی بیان تو جاری کرتے رہے ہیں لیکن ان کی جانب سے خطے میں کوئی جارحانہ کارروائی بدھ کی صبح سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

سعودی عرب نے بُدھ کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس کی مسلح افواج نے امریکی سینڑل کمانڈ (سینٹکام) کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف حملے کیے ہیں۔سعودی عرب کا الزام ہے کہ یہ گروہ اس کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ملوث تھے۔

ریاض کی ان کارروائیوں کے اعلان کے بعد ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہ پاپولر موبلائزیشن فورسز نے بھی گذشتہ شب عراق میں اس کے ٹھکانوں پر امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں میں کم از کم 20 ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔بی بی سی فارسی کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور نیم فوجی گروہوں کا ایک اتحاد ہے، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور اس کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

ایران اسے خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک، جسے عموماً ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔سعودی عرب کے علاوہ امریکی سینٹکام نے بھی ایک علیحدہ بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے دوران عراق میں موجود ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading