اۓ ایمان والو اپنی پاکیزہ کماٸی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو(القرأن)

نورمحمدخان ممبٸی

اللہ تبارک وتعالی نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایااور قران پاک میں بار بار ارشاد فرماتاہے اۓ ایمان والو یعنی کہ جس نے اللہ اور اس کے رسولوں پر اس کی کتابوں پر ایمان لایا قیامت پر تقدیر پر اور فرشتوں پر ایمان لاۓ ایسے ایمان والو سے مخاطب ہے کہ اے ایمان والو تم اپنی پاکیزہ کماٸی میں سے اور زمین سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوٸی چیزوں میں سے خرچ کرو( ٢٦٧ سورہ بقرہ)اللہ تبارک وتعالی کا عظیم احسان ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کا مقدس مہینہ عطا فرمایا اس مقدس مہینے سے وہی لوگ فیض حاصل کرتے ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور جن لوگوں کے پاس پاکیزہ کماٸی کی رقوم ہے وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیۓ خرچ کرتے ہیں ان کے لیۓ اللہ کے یہاں بڑا انعام مقرر ہے اکیسویں صدی کے اس جدیدیت میں اگر دیکھا جاۓ تو مسلمانوں میں دولت حاصل کرنے کے لیۓ شریعت قانون کی کوٸی اہمیت نہ رہی بلکہ حلال و حرام کی تمیز کرنے سے بھی قاصر ہیں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عالم اسلام زکوۃ کی اداٸیگی کا اہتمام کرتے ہیں بالخصوص وطن عزیز میں زیادہ تر زکوۃ کو مدرسوں تک محدود کردیا گیا کیونکہ ہند کے علما کے بقول مدرسوں میں غریب یتيم بے سہارا بچے دینی علوم حاصل کرتے ہیں اب اس مختصر جملہ کے پس منظر کا جاٸیزہ لیا جاۓ تو ایک بات منظر عام پر أتی ہے کہ 2005 میں ہندوستانی جمہوری نظام کی مشنریاں نے بھی واضح کردیا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی بدتر ہوگٸ ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ أخر ایسی کون سی وجوہات پیش أٸیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت بد سے بھی بدتر ہوگٸی؟

جبکہ ہندوستان میں بے لاکھوں کی تعداد میں وقف بورڈ کی ملکیت موجود ہے اور اس ملکیت کا مقصد یہی تھا کہ غریب یتیم بے سہارا اور مطلقہ و بےوا خواتين کی کفالت کے علاوہ ہسپتال کالجز اسکول اعلی تعلیم اور شادی بیاہ پر خرچ کرنا تھا تاکہ مسلمانوں کی پسماندگی دور ہوسکے دوسری طرف ہرسال اربوں روپیہ زکوۃ کی رقم وصول کی جاتی ہے باوجود اس کے ہمارے مدارس یہی کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں غریب یتیم بے سہارا بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی سماجی اور معاشی پسماندگی ختم ہونے کا نام نہیں لےرہی ہے!

قابل غور بات یہ ہے کہ ایک طرف اللہ تبارک وتعالی کا فرمان اوردوسری طرف ان مسلمانوں کا کردار جو ابلیس کی ترجمانی پر معمور ہے دنیا کا ایسا کوٸی ادارہ نہیں ہے جہاں پر امانت میں خیانت اور ایمان کا سودا نہیں ہوتا ہے ! کیونکہ اس جدید دور میں دولت کی حوس نے بالخصوص مسلمانوں کے ایمان کو مسخ کردیا ہے اول ذکر تو یہ ہے کہ کاروبار میں جس انداز سے جھوٹ اور تعریف کے پل بانھ کر اپنے سودے کو فروخت کیا جاتا ہے اس طور طریقے کو اسلام نے ازسرنو خارج کیا ہے أج مسلمان بڑے ہی فخر سے کہتا ہے کہ ہم نے یہ دولت کماٸی ہے اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے قارون اور فرعون جیسے لوگوں کے پاس بھی دولت تھی لیکن ان کی دولت ان کے کام نہیں أٸی

اکیسویں صدی کا جدید مسلمان جن کی دولت میں پاکیزگی نہیں ہے ایسے لوگ مسجد مدرسوں میں دکھاوےکے لیے ہزاروں لاکھوں کی روپیہ دیتے ہیں جسے اسلام نے ریاکار کے نام سے موسوم کیا ہے افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے اکابردین چندا دینے والے شخص سے یا اعلانیہ یہ نہیں کہتے کہ اپنی پاکیزہ کماٸی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو جبکہ ظاہر سی بات ہے کہ حلال کماٸی کو حق کرار دیا گیا اور حرام کو باطل کرار دیا گیا ہے توکیا ایسی صورت میں حرام مال بارگاہ الہی میں قبول ہونگے ?
چانچہ قارون اور اس کی بے انتہا دولت کا غضبناک قصہ بیان کرتے چلیں
قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا ”یصہر” کا بیٹا تھا۔ بہت ہی شکیل اور خوبصورت آدمی تھا۔ اسی لئے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اُس کو ”منور”کہا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس میں یہ کمال بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ”توراۃ” کا بہت بڑا عالم، اور بہت ہی ملنسار و بااخلاق انسان تھا۔ اور لوگ اُس کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے۔لیکن بے شمار دولت اُس کے ہاتھ میں آتے ہی اُس کے حالات میں ایک دم تغیر پیدا ہو گیا اور سامری کی طرح منافق ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بہت بڑا دشمن ہو گیا اور اعلیٰ درجے کا متکبر اور مغرور ہو گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو اُس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے روبرو یہ عہد کیا کہ وہ اپنے تمام مالوں میں سے ہزارہواں حصہ زکوٰۃ نکالے گا مگر جب اُس نے مالوں کا حساب لگایا تو ایک بہت بڑی رقم زکوٰۃکی نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر ایک دم حرص و بخل کا بھوت سوار ہو گیا بلکہ زکوٰۃ کا منکر ہو گیا مسلم معاشرے میں ایسے افراد بھی ہیں جو قارون کے نقش قدم پر چل رہے ہیں جس کی زندہ مسال وقف بورڈ میں خردبرد کرنے والے مسلم لیڈرشپ و عہدیداران ہیں ہندوستان میں کم و بیش ٦لاکھ سے زائد وقف بورڈ کی ملکیت موجود ہے گزشتہ 70 برسوں سے بورڈ کی ملکیت میں خردبرد کرنے والے یہ وہی لیڈران ہیں جو حکومتوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کا وعدہ کتنا وفا ہوا سچر کمیٹی کی رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے ہندی مسلمانوں نے جنہیں اپنا قاٸد تسلیم کرتے ہوۓ اقتدار کے تخت و تاج کا حصہ بنایا انہی کی موجودگی میں وقف ملکیت فروخت ہوتی رہی اور اس کے برعکس مسلمان وہیں کھڑا ہے جہاں أزادی کے وقت کھڑا تھا اور لیڈران کروڑوں کے مالک بن گۓ کیونکہ یہ جو ٹھرے دلتوں سے بھی بدتر مسلمانوں کے قاٸد!
اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ زکوۃ کی رقم مدرسوں تک محدود کیوں ہے اور اللہ نے پاکیزہ کماٸی کا حکم کیوں دیا ?جبکہ اللہ تبارک و تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ ” صدقہ صرف فقیروں کے لئے ہے اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصولنے والوں کے لئے اور ان کے لیے ہے جن کے دل پرچاے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور راہ اللہ میں، راہ رو مسافروں کے لئے فرض ہے اللہ کی طرف سے، اللہ علم و حکمت والا ہے،، (سورہ طوبہ آیت نمبر 60) افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے علما یہی کہتے ہیں کہ مدرسوں میں غریب یتیم بچے دینی علوم حاصل کرتے ہیں اور یہ بچے زکوۃ کے مستحق ہیں?جبکہ جتنے بھی دارالعلوم ہیں سب میں بچوں سے فیس لیا جاتا ہے اور فیس نہ ادا کرنے پر بچوں کو مدرسہ سے باہر کا راستہ دکھاتے ہیں کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے جس مدرسے میں غریب یتیم کے بچے دینی علوم حاصل کرتے ہیں اس مدرسوں کے مہتمم کی تنخواہیں ان کا لباس رہن سہن کسی امیر شخص سے کم نہیں ہے اور طالب علم کے حالات پر غور کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ جس طریقہ کا کھانا دیا جاتا ہے اس طریقے کا کھانا وہ اپنے گھر پر بھی نہیں کھاتے ہونگے جو نہایت ہی افسوسناک ہے
سورہ بقرہ کی جس أیت کریمہ پر موضوع سخن کی ضرورت پیش أٸی اس أیت کے پس منظر میں جب علما سے سوال کیا گیا تو برجستہ یہی جواب ملتا ہے اگر ہم یہ کہیں کہ پاکیزہ کماٸی کا چندا دیں تو یقینن ہمارے پاس کیرایہ تک نہیں ہوگا کہ ہم اپنے وطن پہنچ جاٸیں !اب أپ ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عالم اسلام جن مصائب میں مبتلا ہے اس کا ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہماری أمدنی پر سوالیہ نشان لگاتی ہے کیونکہ جب ایمان کی روحانی طاقت ختم ہوجاتی ہے اور لوگ ذاتی مفاد میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو بے شک اللہ تبارک و تعالی ظالم حکمراں مسلط کردیتا ہے یہ اور بات ہے کہ ملک میں جتنے کالج اور یونيورسٹی نہیں ہے اس سے کٸی گنا زیادہ دینی مدارس ہیں جہاں سے نبی کریم ﷺ اسوہ حسنہ کی تعلیم نہیں بلکہ مسلکی تشدد کی تعلیم دی جاتی ہو تو بھلا ایمان کی روحانی طاقت کیسے محفوظ رہے گی
بلکہ دینی مدارس کو چندے کی خطیر رقم درکار ہے بھلے ہی وہ غیر شرعی اعتبار سے حاصل کی گٸی ہو انہیں تو بس رقم سے مطلب ہے حالانکہ چاہے دینی علوم ہو یا ادارہ نیز اہل وعیال کی کفالت ہو جہاں پاکیزگی نہیں اس میں برکت اور رحمت کیسے ہوسکتی ہے
کیا ہمارے اکابرین یہ نہیں جانتے ہیں کہ معاشرے میں نوجوان بہن بیٹیاں ہیں جن کا بیاہ نہیں ہورہا ہے مطلقہ بیوا عورتيں اور نوجوان لڑکیاں جسم فروشی کے دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہیں نوجوان لڑکے بے روزگاری کا شکار ہیں ایسے مریض بھی ہیں جو علاج کے لیۓ بھیک مانگ رہے ہیں روپیہ کی خاطر نوجوان اعلی تعلیم سے محروم ہے کیا ایسے لوگوں پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنا درست نہیں ہے جہاں تک میرا خیال ہے کہ بھلے ہی کماٸی کیسی بھی ہو اگر مذکورہ بالا مندرجہ ذیل نکات پر خرچ کیا جاۓ جس سے مسلمانوں کی پسماندگی دور ہوسکے تو یقینن اللہ تبارک و تعالی کارساز اور نہایت ہی رحم کرنے والا ہے (اللہ وعالم بثواب)
9029516236

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading