اے آر رحمٰن کی بیٹی کا برقعے کو پسماندگی کی علامت سمجھنے والوں کے منہ پر زوردار طمانچہ

تحریر : یاسر ندیم الواجدی

اے آر رحمن کی بیٹی خدیجہ نے پہلی مرتبہ میڈیا کا سامنا کیا اور وہ بھی مکمل پردے میں۔ ان کی باتوں اور ان کے عمل سے اسلام اور خصوصاً برقعے کو پسماندگی کی علامت سمجھنے والوں کے منہ پر زوردار طمانچہ لگا ہے۔ اسی لیے اسلام دشمنوں نے سوشل میڈیا پر یہ الزام لگانا شروع کردیا ہے کہ اے آر رحمان اپنی بیٹی کو برقع پہننے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے والد کا موسیقی بنانا جائز ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے، مگر خدیجہ نے اپنے والد کے بارے میں کچھ یوں کہا:

میرے والد کی تین خصوصیات ہیں:

نمبر1: تواضع

نمبر2: ضرورت مندوں کی مدد۔ ہمیں اکثر دوسروں سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے والد نے فلاں کی مدد کی ہے۔ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ ان کے بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہیں چلتا۔

نمبر3: دوسروں کا احترام، صرف اپنے بڑوں کا ہی نہیں بلکہ اپنے سے چھوٹوں کا بھی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مزدوروں کو ان کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ان کی اجرت دے دی جائے۔

میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلتے ہیں، ان کے سارے ایوارڈز ایک طرف اور ان کا یہ وصف دوسری طرف۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading