ایودھیا 12 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایودھیا کے کارسیوک پورم میں رام جنم بھومی نیاس کے تحت چلائے جانے والے ورک شاپ میںکام فنڈز اور فنکاروں و آرٹسٹوں کی کمی کی وجہ سے سست ہوگیا ہے ۔ ورکشاپ کے انچارچ نے یہ بات بتائی ۔ یہ ورکشاپ 1990 سے چلایا جا رہا ہے تاکہ وہاں ایک رام مندر تعمیر کیا جاسکے ۔ کارسیوک پورم کے وسیع کاریہ شالا میں مجوزہ رام مندر کا ایک لکڑی کا نمونہ بھی ہے ۔ یہاں کئی عقیدتمند ملک کے مختلف حصوں سے یہاں آتے ہیں اور اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ورکشاپ کے انچارچ انو بھائی سوم پورا نے واضح کیا کہ بڑے اور تراشے ہوئے پتھروں کی قطاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں کھلے علاقہ میں رکھا گیا ہے اور یہ کسی بھی وقت استعمال کیلئے دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پتھروں کی تراش کا کام 50 فیصد تک مکمل ہوچکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مندر کی پہلی منزل تیار ہوسکتی ہے ۔ ہم کو امید ہے کہ سپریم کورٹ سے ایودھیا حق ملکیت مقدمہ میں ہمارے حق میں فیصلہ آئیگا اور جیسے ہی مثبت اشارہ ملے سنگ بنیاد رکھنے کا کام شروع ہوجائیگا ۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی ۔ منصوبہ کے مطابق اگر یہ مندر تعمیر ہوتا ہے تو یہ 268 فیٹ لمبا اور 140 فیٹ چوڑا ہوگا جبکہ اس کی بلندی 128 فیٹ ہوگی ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کیلئے 212 ستون نصب کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہر فلور میں 106 پلر ہونگے اور ہر پلر میں 16 مجسمے ہونگے ۔ اب تک فنکاروں نے ان کو تراشنے کا کام مکمل کرلیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اب تک جو کام کیا گیا ہے وہ عقیدتمندوں کے رضاکارانہ چندوں سے ہوا ہے ۔ اب یہ فنڈز زیادہ نہیں آر ہے ہیں جیسے پہلے آیا کرتے تھے ۔ اس سوال پر کہ کتنے فنکار فی الحال کارسیوک پورم کے کاریہ شاالا میں کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہاں اب صرف دو سنگ تراش اور دو مزدور ہی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کام کرنے والوں کی تعداد کم ہوگئی ہے ۔۰ کچھ لوگ کام چھوڑ چکے ہیں ۔ یہاں کام کرنے والوں کی تعداد 1990 میں 150 کے آس پاس تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں مزدور اور سنگ تراش صبح 7 بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتے ہیں اور صرف اماوس کے دن یہاں کام روکا جاتا ہے ۔ رام جنم بھومی نیاس کو وشوا ہند پریشد کی تائید حاصل ہے ۔