کشن گنج ،29 دسمبر ( یواین آئی) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم ) سپریمو اسد الدین اویسی نے آج کہاکہ مرکزی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) زیر قیادت نریندر مودی حکومت این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) کو نافذ کر کے ہندو اور مسلمانوں کے مابین پھوٹ ڈالنا چاہتی ہے ۔ جس کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔

مسٹر اویسی نے یہاں ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ این آرسی اور سی اے اے جیسے کالے قانون کولیکر ان کی لڑائی مرکز کی مودی حکومت سے ہے ۔ حکومت قانون نافذکر کے ہندواور مسلم کے مابین تفریق کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کی منشا کو وہ کبھی پورانہیں ہونے دیں گے ۔ اے آئی ایم آئی ایم کے چیف نے کہاکہ بہارکے ایک۔ ایک مسلمانوں نے آزادی کی لرائی میں قربانیاں دی تھیں۔ انہوں نے الزام عائدکیاکہ وزیرا عظم نریندر مودی ملک کے مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس قانون کے تحت بنگلہ زبان بولنے والے 500000 لوگوں کو ڈینٹیشن کیمپوںمیں رکھا گیاہے ۔ مسٹر اویسی نے کہاکہ انہیں راشٹریہ جنتادل( آرجے ڈی ) صدر لالو پرساد یادو ، بہار کے وزیراعلیٰ اور جنتادل یونائٹیڈ( جے ڈی یو) کے قومی صدر نتیش کمار ، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی یا پھر وزیراعظم کسی سے بھی ڈر نہیں لگتا ہے ۔ وہ ڈر کی بنیاد پر کھڑے نہیںہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وہ آج یہاں آئین اور ملک کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوئے ہیں۔ ملک کو نقصان پہچانے کا مطلب ہے انہیں نقصان پہنچانا ۔ اے آئی ایم آئی ایم سپریمو نے کہاکہ ہندوستان کے آئین کو خراب کرنے کیلئے ملک بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھی معاف نہیںکرے گا۔ آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور مسٹرکمار اپنی آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کیرل کی طرز پر بہار کی عوام وزیراعلیٰ نتیش کمار سے بھی اپیل کرتی ہے کہ ریاست میں قومی مردم شماری رجسٹر ( این پی آر ) نافذ نہ ہو ۔

حالانکہ مسٹر کمار ابھی وزیراعظم مودی کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں۔ غورطلب ہے کہ بہارمیں حال ہی میں ضمنی انتخاب میں کشن گنج اسمبلی حلقہ سے اے آئی ایم آئی ایم امیدوار قمر الہدیٰ نے جیت درج کی ہے ۔ مسٹر ہدی کے جیتنے سے بہار میں پہلی بار اے آئی ایم آئی ایم کا کھاتہ کھلا ہے ۔