صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا۔‘ ان کے بقول وقت کم ہے اور فیصلہ فوری طور پر کرنا ہوگا۔‘ اس سے قبل ایران ‘کے وزیر خارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ ’اگر مذاکرات چاہتے ہیں تو دھمکیوں اور غیر منطقی مطالبات کو ختم کرنا ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا ہے کہ ایک بڑی بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی قیادت ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کر رہا ہے۔ یہ بیڑہ وینیزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا اور طاقتور بتایا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’یہ بیڑہ تیار، پُرعزم اور اپنا مشن تیزی سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس دوران طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی طور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے اختلافات کو ’ایک ایک کرکے‘ حل کرے۔

،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump
بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ معاہدہ کرے گا جس میں ایٹمی ہتھیار شامل نہ ہوں۔ ان کے بقول وقت کم ہے اور فیصلہ فوری طور پر کرنا ہوگا۔‘
ٹرمپ کی دھمکی، ’شاہ کی واپسی‘ اور اسرائیل: ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں میں فوج کہاں کھڑی ہے؟
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات نہ کیے تو اس بار کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے دوران ایران کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اگلا حملہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے بیان میں کہا تھا کہ کچھ ممالک بطور واسطہ بات چیت کر رہے ہیں اور ایران ان سے رابطے میں ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ فوجی دھمکیوں سے بات چیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر مذاکرات چاہتے ہیں تو دھمکیوں اور غیر منطقی مطالبات کو ختم کرنا ہوگا۔
دوسری جانب بی بی سی ویری فائی نے عوامی طور پر دستیاب معلومات سے امریکہ کی بحری بیڑے کی تعیناتیوں کا سراغ لگایا ہے۔
ایک امریکی دفاعی اہلکار نے بی بی سی ویری فائی کو تصدیق کی ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کی قیادت میں ایک بحری بیڑہ ’آرمادا‘ مشرقِ وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جون 2025 میں امریکہ نے حملوں میں ایران کی یورینیم افزودگی کی تین تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی حکام نے بعد میں کہا کہ مڈنائٹ ہیمر نامی وہ کارروائی تہران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کے امکانات کو نمایاں طور پر پیچھے دھکیلنے کا سبب بنی۔