’ایران کے میسی ‘ پر 23 خواتین کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے کا الزام

ایران کے باشندے اور بنیادی طور پر ‘ایران کے میسی’ کے طور پر مشہور ریزہ پاراستش پر ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر ليونل میسی کے ہمشکل کے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قریب 23 خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے اور جسمانی تعلقات بنانے کا الزام لگا ہے۔

پاراستش پر الزام لگا ہے کہ انہوں نے خواتین سے حقیقی میسی ہونے کا جھوٹ بول کر ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی اور جسمانی تعلق بھی بنائے۔ میسی پر یہ الزام سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اگرچہ ایرانی باشندے نے ان سے انکار کیا ہے اور خود کو بے قصور بتایا ہے۔ پاراستش دیکھنے میں بالکل بارسلونا کے کھلاڑی میسی کی طرح ہی دکھائی دیتے ہیں۔ منگل کو ماركا سمیت دیگر میڈیا ذرائع کے حوالے سے یہ دعوی کیا گیا تھا کہ پاراستش نے اپنے میسی کی طرح ظاہری شکل ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی خواتین کے ساتھ جسمانی تعلقات بنائے ہیں۔ ہسپانوی خبر رساں ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ ایرانی باشندے نے قریب 23 خواتین کو خود کو اصلی میسی بتا کر جسمانی تعلقات بنائے ہیں۔

اس خبر کے پھیلنے کے بعد 26 سالہ پاراستش نے ایک انٹرویو میں اس خبر کو جھوٹ بتایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ خبر مسلم ممالک میں پھیل رہی ہے جو خطرناک ہے۔ مجھے اس سے کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پوری دنیا میں اس خبر نے مجھے پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ میرے خاندان نے بھی مجھے اس کے لیے برا بھلا کہا ہے لیکن عام لوگوں کی نازیبا تبصرے کافی المناک ہیں۔

تہران میں ماڈلنگ اور اربن انجینئرنگ میں گریجویشن پاراستش نے انسٹاگرام پر بھی ایک ویڈیو جاری کر پیغام دیا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی ہے۔ انہوں نے ویڈیو میں کہاکہ ہیلو دوستوں، سوشل میڈیا پر میرے بارے میں ایک جھوٹی خبر پھیلائی جارہی ہے کہ میں 23 خواتین کے ساتھ سویا ہوں کیونکہ ان عورتوں کو لگا کہ میں لیونل میسی ہوں۔ میری اپیل ہے کہ آپ کسی کی شبیہ کو اس طرح خراب نہ کریں۔ میسی کے ہمشکل نے کہاکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو کوئی نہ کوئی میرے خلاف شکایت کرتا اور مجھے اس کے لیے جیل ہو گئی ہوتی۔ اگر یہ سچ ہوتا تو میں اب تک جیل میں هوتا۔ آپ ان خبروں پر یقین نہ کریں۔ یہ سچ نہیں ہے۔ پاراستش دو سال پہلے اس وقت شہ سرخیوں میں آئے تھے جب ان کے والد نے انہیں بارسلونا کی جرسی میں میسی کی طرح کی تصویر کھنچانے کے لیے کہا تھا۔ ان کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس سے وہ راتوں رات مقبول ہوگئے

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading