اہم خبر: ٹرمپ کے مضحکہ خیز بیان پر منوج جھا نے کیا زبردست طنز


ٹرمپ نے اب استقبال کرنے والوں کی تعداد بتائی ایک کروڑ، منوج جھا نے کیا طنزیہ ٹوئٹ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دو دنوں بعد ہندوستان دورہ شروع ہونے والا ہے اور احمد آباد میں ان کے استقبال کی تیاریاں زور و شور سے ہیں۔ اس درمیان امریکی صدر نے کولوراڈو کی ایک ریلی میں کہہ دیا کہ احمد آباد میں ان کا استقبال کرنے کے لیے ایک کروڑ لوگ موجود ہوں گے۔ ٹرمپ کے اس بیان پر لوگ کافی مذاق بنا رہے ہیں۔ آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے بھی اس سلسلے میں ایک طنزیہ ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’کیا بھائی صاحب! بچے کی جان لو گے کیا؟ 7 ملین ہی نہیں بن پا رہا تھا اور اب آپ افسانہ کو 10 ملین پر لے گئے۔‘‘ دراصل ٹرمپ نے کچھ دنوں پہلے ایک بیان دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی پی ایم مودی نے ان سے کہا ہے کہ احمد آباد میں 70 لاکھ لوگ ان کا استقبال کریں گے۔ حالانکہ بعد میں سرکاری ذرائع نے کہا تھا کہ استقبال کرنے والوں کی تعداد 1 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔


’پاکستان زندہ باد‘ نعرہ لگانے والی امولیہ لیونا کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے گزشتہ دنوں سی اے اے مخالف ایک ریلی نکالی جو تنازعہ کا شکار ہو گیا۔ اس ریلی میں امولیہ لیونا نامی ایک لڑکی نے مائک پر جا کر ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگا دیا جس کے بعد ریلی میں کافی ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ نعرہ لگانے والی امولیہ لیونا کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔


شاہین باغ مظاہرین سے مذاکرہ کاروں کی آج پھر ہوگی ملاقات، فی الحال نہیں نکلا کوئی حل

دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کا دھرنا و مظاہرہ جاری ہے۔ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف دو مہینے سے زیادہ عرصہ سے جاری اس دھرنا و مظاہرہ کو ختم کرنے کی لگاتار کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن دہلی پولس و مرکزی حکومت اس میں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر کردہ مذاکرہ کار وکیل سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن 19 فروری سے شاہین باغ جا کر مظاہرین سے لگاتار بات کر رہی ہیں، لیکن فی الحال کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔ آج ایک بار پھر دونوں شاہین باغ جائیں گے اور تیسرے راؤنڈ کی بات چیت ہوگی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading