مجرمانہ شبیہ والے لیڈروں کو ٹکٹ دینے سے پہلے پارٹیوں کو بتانی ہوگی وجہ: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ کسی مجرمانہ شبیہ والے لیڈروں کو الیکشن میں ٹکٹ دیتے ہیں تو ان کے بارے میں تفصیلی جانکاری اپنی ویب سائٹ پر دیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر یہ بھی بتائیں کہ آخر انھوں نے مجرمانہ شبیہ والے شخص کو ٹکٹ کیوں دیا۔
Supreme Court also directs political parties to publish credentials, achievements and criminal antecedents of candidates on newspaper, social media platforms and on their website while giving a reason for selection of candidate with criminal antecedents. https://t.co/HE0Om38zGn
— ANI (@ANI) February 13, 2020
مظفر نگر: 53 افراد سے 23 لاکھ روپے وصولے گی یوگی حکومت، CAA مظاہرہ میں توڑ پھوڑ کا الزام
اتر پردیش کے مظفر نگر میں شہریت ترمیمی قانون مظاہرہ کے دوران توڑ پھوڑ معاملہ میں مقامی انتظامیہ نے 53 لوگوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ مظفر نگر کے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ امت سنگھ نے کہا کہ ہم نے 53 لوگوں کو تقریباً 2341290 روپے کے نقصان کی بھرپائی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
Muzaffarnagar Additional District Magistrate (ADM) Amit Singh: We have issued orders to 53 people to compensate for a loss of around Rs 23,41,290. Kotwali Police Station is also in the process of issuing their orders, complaints against 17 people are filed there.
— ANI UP (@ANINewsUP) February 13, 2020
آسام: مدرسہ اور سنسکرت اسکولوں کو ہائی اسکول میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
آسام حکومت میں وزیر ایچ بی سرما نے میڈیا سے بات چیت کے دوران مدرسہ اور سنسکرت اسکولوں کے متعلق ایک انتہائی اہم بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے سبھی مدرسوں اور سنسکرت اسکولوں کو ہائی اسکولوں اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مذہبی اداروں کو فنڈ مہیا کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘ حالانکہ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’غیر سرکاری اداروں اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ چل رہے مدرسے پہلے کے مطابق ہی چلتے رہیں گے، لیکن ایک ریگولیٹری ڈھانچہ کے مطابق اس کا نظام چلایا جانا چاہیے۔‘‘
HB Sarma, Assam Minister: We have decided to convert all Madrasas and Sanskrit tols(schools) to high schools and higher secondary schools, as the state can't fund religious institutions. However, Madrasas run by NGOs/Social orgs will continue but within a regulatory framework pic.twitter.com/c3DKQzEMfu
— ANI (@ANI) February 13, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو