میانمار میں تودے گرنے سے 18 افراد ہلاک
یانگون: میانمار کے کاچن صوبہ کے ہپکانت شہر میں سنیچر کو عقیق کے کان کو ٹکراتے ہوئے تودہ گرنے سے 18 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ اطلاع اتوار کو مقامی افسر نے دی۔
محکمہ شہری انتظامیہ کے افسر نے بتایا کہ ’’’یہ حادثہ ہپکانت میں کیان چونگ گاؤں کے نزدیک عقیق کے کان پر چٹان گرنے کی وجہ سے پیش آیا جس میں کمپنی کے اسٹاف اور سیکورٹی گارڈمارے گئے۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق تقریبا دو بجے دن میں پیش آیا۔
محکمہ کے افسرنے مزید بتایا کہ بچاؤ ملازمین نے 18 لاشیں نکال لیں ہیں اور کئی اب بھی لاپتہ ہیں۔ دو سیکورٹی اہلکارکو بچانے کے بعد اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ تلاشی مہم اب بھی جاری ہے۔
امریکہ میں فائرنگ، ایک کی موت، 11 زخمی
یویارک: امریکہ میں نیویارک کے بروکلن میں واقع براؤنس ولے ضلع میں اتوار کی صبح ایک رہائشی علاقے میں ہوئی فائرنگ میں ایک شخص کی موت ہوگئی اور 11 دیگر زخمی ہوگئے۔
مقامی میڈیا نے اتوار کو بتایا کہ ایک بندوق بردار نے براؤنس ولے ضلع کے کرسٹوفر اینویو اور ہیگمین ایونیو کے نزدیک رہائشی علاقے میں ایک سالانہ پروگرام کےد وران فائرنگ کرکے ایک 38سالہ شخص کو قتل کردیا۔ فائرنگ میں 11 افراد بھی زخمی ہوئےہیں۔
انفورسمنٹ محکمے کے ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور جائے وقوع سے فرار ہوگیا۔ بعد میں پولیس کو ایک لاوارث بندوق ملی۔جائے وقوع کی جانچ کی جارہی ہے۔
اہم خبر: کرناٹک کے 14 باغی ارکان اسمبلی نا اہل قرار
بنگلورو: کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر کے آر رمیش نے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے 14 ارکنا اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ ان میں کانگریس کے 11 اور جے ڈی ایس کے 3 ارکنا اسمبلی شامل ہیں۔ 3 ارکان اسمبلی کو اسپیکر نے اس سے پہلے ہی نااہل قرار دے دیا تھا۔ اپنی پارٹیوں سے بغاوت کرنے والے کل 17 ارکان اسمبلی نااہل قرار دئے جا چکے ہیں۔
ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ کرنے کے بعد اسپیکر رمیش کمار نے کہا کہ میں نے کوئی چالاکی یا ڈرامہ نہیں کیا، بلکہ مہذب طریقہ سے فیصلہ لیا ہے۔
نااہل قرار دئے گئے ارکان اسمبلی
کانگریس: بیراٹھی بسوراج، منی رتنم، ایس ٹی سوم شیکھر، روشن بیگ، آنند سنگھ، ایم ٹی بی ناگراج، بی سی پاٹل، پرتاپ گوڈا پاٹل، ڈاکٹر سودھاکر، شیوراج ھیبار اور شری منت پاٹل۔
جے ڈی ایس: گوپالییا، ناراین گوڈا اور اے ایچ وشوناتھ۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
