اہم خبریں: لکھنؤ کورٹ بم اندازی معاملہ میں بار ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری گرفتار


عدالت میں بم اندازی کرنے کے الزام میں لکھنؤ بار ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری گرفتار

لکھنؤ کورٹ میں دیسی بم سے حملہ کرنے کے الزام میں لکھنؤ بار ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں 2 وکیل زخمی ہوئے تھے۔


سابق آئی اے ایس شاہ فیصل کے خلاف پی ایس اے کے تحت معاملہ درج

سابق آئی اے ایس اور جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کے سربراہ شاہ فیصل کے خلاف پی ایس اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس اے لگایا گیا تھا۔ دونوں لیڈروں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔


جموں و کشمیر: ہیرا نگر سیکٹر میں پاکستان کی گولی باری میں کئی گھر تباہ

بی ایس ایف ذرائع نے خبر دی ہے کہ جموں و کشمیر کے ہیرا نگر سیکٹر میں آج صبح پاکستان کی جانب سے گولی باری کی گئی ہے۔ پاکستانی رینجرس نے آس پاس کے گاؤں کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ گولی باری میں کچھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔ حالانکہ کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے پاکستان کو منھ توڑ جواب دیا گیا ہے۔


جے پور: شہید اسمارک پر شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ میں شامل ہوئے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت

پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ راجستھان میں بھی کئی مقامات پر دھرنا و مظاہرہ ہو رہا ہے۔ اس درمیان جے پور کے شہید اسمارک پر بڑی تعداد میں لوگ ان سیاہ قوانین کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی جمعہ کے روز اس دھرنا میں حصہ لیا اور لوگوں کے ساتھ سی اے اے کے خلاف آواز بلند کی۔


اتر پردیش: ہاپوڑ میں اغوا طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری!

اتر پردیش میں جرائم کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ تازہ معاملہ ہاپوڑ کا ہے جہاں ایک ایم بی اے طالبہ کا کچھ غنڈوں نے اغوا کر لیا اور پھر اس کی مبینہ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق طالبہ کے والد نے بیٹی کے غائب ہونے پر پولس میں شکایت درج کروائی اور اس کا الزام چار لوگوں پر لگایا۔ پولس نے جب طالبہ کے موبائل لوکیشن سے تلاشی مہم شروع کی تو وہ زخمی حالت میں بلند شہر سے برآمد ہوئی۔ طالبہ کو اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے اور پولس نے ملزمین کو ڈھونڈنا بھی شروع کر دیا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading