دہلی تشدد: فائرنگ کرنے والا شاہ رخ اتر پردیش سے گرفتار، 3.30 بجے پریس کانفرنس
دہلی تشدد کے دوران جعفر آباد میں کئی راؤنڈ فائرنگ کرنے والا شاہ رخ آج اتر پردیش سے گرفتار کر لیا گیا۔ شاہ رخ کا فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیو 24 فروری کو سامنے آیا تھا اور اس دن سے ہی وہ فرار تھا۔ آج دہلی پولس کرائم برانچ نے اسے اتر پردیش سے گرفتار کیا اور وہ اسے دہلی لے کر آ رہی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پولس 3.30 بجے اس سلسلے میں پریس کانفرنس کرے گی۔
Shahrukh, the man who had opened fire at police during violence in North East Delhi on 24th February, has been arrested by Delhi Police Crime Branch from Uttar Pradesh. https://t.co/y6JOtr8pFl pic.twitter.com/oeeD6QIynl
— ANI (@ANI) March 3, 2020
بی جے پی لیڈر کپل مشرا کو کسی طرح کی سیکورٹی نہیں دی گئی: پولس جوائنٹ کمشنر
دہلی پولس کے جوائنٹ کمشنر آلوک کمار نے کپل مشرا کو ’وائی کیٹگری‘ سیکورٹی دیے جانے کی خبروں پر بڑا بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی لیڈر کپل مشرا کو کسی طرح کی سیکورٹی نہیں دی گئی ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ پہلے اس طرح کی خبریں سامنے آئی تھیں کہ دہلی پولس نے کپل مشرا کو لاحق خطرہ کے پیش نظر انھیں وائی کیٹگری کی سیکورٹی دی ہے۔
Alok Kumar, Joint Commissioner of Police on reports that BJP leader Kapil Mishra has been given 'Y' Category security cover: No security has been provided to BJP leader Kapil Mishra. pic.twitter.com/L6EnZj6mkJ
— ANI (@ANI) March 3, 2020
سی اے اے-این آر سی کی مخالفت کرنے پر دہلی پولس نے 100 لوگوں کو حراست میں لیا
دہلی کے رام لیلا میدان سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کی مخالفت کر رہے لوگوں کو دہلی پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے لوگوں کی تعداد 100 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
100s have been detained from Ramlila Maidan to prevent them marching in Young India peace and justice march. Delhi Police is stopping buses full of students all over Delhi. Please gather directly at Jantar Mantar.
Issued on Behalf of Young India National Coordination Committee pic.twitter.com/TMqmRE1HQB
— N Sai Balaji (@nsaibalaji) March 3, 2020
کولکاتا: ’گولی مارو‘ نعرہ لگانے کے الزام میں مزید ایک بی جے پی حامی گرفتار
’دیش کے غداروں کو، گولی مارو … کو‘ نعرہ لگانے کے الزام میں کولکاتا میں مزید ایک بی جے پی حامی کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اب متنازعہ نعرہ لگانے والے گرفتار ملزمین کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ کی ریلی میں بی جے پی حامیوں نے یہ متنازعہ نعرہ لگایا تھا۔
Another person, alleged to be a BJP supporter, held for raising "goli maro …" (shoot the traitors) slogan while heading for Union Home Minister Amit Shah's rally in Kolkata on Sunday; fourth arrest in case: Official
— Press Trust of India (@PTI_News) March 3, 2020
پولس نے کپل مشرا کو وائی کیٹگری کی سیکورٹی دینے کا کیا اعلان
دہلی میں تشدد پھیلانے کے الزامات کا سامنا کر رہے بی جے پی لیڈر کپل مشرا کو دہلی پولس نے وائی کیٹگری کی سیکورٹی دینے کا اعلان کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز بیان دینے کے لیے کپل شرما پر مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا ہے، لیکن فی الحال اس پر عمل کرنے کی جگہ انھیں سیکورٹی دیے جانے سے کچھ لوگ حیران ہیں۔ کپل مشرا کے علاوہ سیلم پور سے بی جے پی امیدوار رہے کوشل مشرا کو بھی وائی کیٹگری کی سیکورٹی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کوشل مشرا کو بدنام زمانہ گینگسٹر ناصر سے پہلے ہی دھمکی ملی ہوئی ہے۔
آج پارلیمنٹ میں اروند کیجریوال پی ایم مودی سے کریں گے ملاقات!
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق آج دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال پی ایم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ موصولہ خبروں کے مطابق کیجریوال یہ ملاقات آج پارلیمنٹ میں کریں گے۔
Delhi Chief Minister Arvind Kejriwal to meet Prime Minister Narendra Modi today in Parliament. pic.twitter.com/jNCxgHXzgK
— ANI (@ANI) March 3, 2020
کورونا وائرس کی دہشت، کرناٹک کے وزیر صحت نے طلب کی ایمرجنسی میٹنگ
تلنگانہ میں ایک پازیٹو کورونا وائرس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد کرناٹک کے وزیر صحت بی. شری رامولو نے آج بنگلورو میں افسروں کی ایک ایمرجنسی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس میٹنگ میں کورونا وائرس سے تحفظ اور ضروری اقدامات کے تعلق سے بات چیت ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی میں بھی کورونا وائرس کا ایک پازیٹیو معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
Karnataka: State Health Minister B Sriramulu has called an emergency meeting of officials in Bengaluru today, after a positive #CoronaVirus case in Telangana. pic.twitter.com/hQD4GdEwYU
— ANI (@ANI) March 3, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو