اورنگ آباد:(جمیل شیخ):گائے اور اس کی نسل کو بچانے کے لئے مرکزی وریاستی حکومت نے قانون لاگو کیا ہے اسی طرح مختلف تنظیمیں گائے کے تحفظ کے لئے آگے آچکی ہیں۔ اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ گائے اور اس کی نسل کو بچائیں گے لیکن اورنگ آباد شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر پسا دیوی علاقے میں اپنے مفاد کے لئے گائے کو آگ میں جھلسانے کا چند لوگوں پر سنگین الزام ہے ۔گائے مالک جناردھن کونڈی با کسارے نے لوگوں سے اس جھلسی ہوئی گائے کو بچانے کے لئے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔جناردھن کسارے سے موصولہ تفصیلات کے مطابق وہ اور اس کی بیوی کلابائی کے ساتھ رات کو اپنے کھیت میں قیام کئے ہوا تھا تاکہ اس کے کھیت میں تیار تور کی چوری نہ ہوکسارے نے بتایا کہ شیواجی مہادواوتاڑے اور اس کے دو بیٹے باڑو بستی کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دئے۔انہیں دیکھ کر کتے بھونک رہے تھے تھوڑی ہی دیر میں بھرت شیواجی مہاد و اور راجو سنجے کالے بھی اس کی کھیت کی جانب آئے اور تور کی چوری کی اور کلا بائی اور اس کے شوہر نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن یہ لوگ تور سے بھرا تھیلا لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
کھیت میں جو گھانس پھونس اور کچرا تھا اسے آگ لگا دی اس آگ نے چھپری کو اپنی چپیٹ میں لیا جہاں گائے باندھی ہوئی تھی اس آگ میں گائے بری طرح جھلس گئی اور گائے کے کاندھے سے پاﺅں تک کا حصہ بری طرح جھلس چکا ہے کسارے کے مطابق وہ اس کا علاج تو کروارہا ہے لیکن زخم میں کیڑے پڑنے لگے ہیں۔اس نے بتایا فی الوقت دواخانے حیوانات ہرسول اور اورنگ پورہ میں اس گائے کا علاج جاری ہے۔ کسی طرح وہ گائے زندہ تو ہے لیکن زمین پر پڑی ہوئی ہے اس کے زخموں سے خون جاری ہے فی الحال اس گائے نے چارہ پانی بند کر رکھا ہے۔ کسارے نے گائے کا تحفظ کرنے والوں کے علاوہ میویشیوں سے محبت کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ فوراً پسا دیوی میں اس سے ربط کریں اور گائے کو زندہ رکھنے کے لئے اس کا علاج کروائیں ساتھ ہی گائے پر ظلم کرنے والے مہادواوتاڑے ودیگر سے اس سوال کا جواب پوچھا جائے کہ انہوں نے بے زبان جانور گائے پر اس طرح ظلم کیو ںکیا۔