حیدر آباد:29اکتوبر۔(ایجنسیز) مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرمرکزی حکومت آرڈیننس لاتی ہے تو لائے، ہم بھی دیکھیں گے۔ بابری مسجد معاملہ پر سماعت سپریم کورٹ کے ذریعہ جنوری تک ملتوی کئے جانے کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبرپارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ ملک قانون اورآئین سے چلے گا، کسی کی مرضی سے نہیں چلنے والا ہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بینچ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جنوری میں یہ بینچ سماعت کی تاریخ طے کرے گی۔ جبکہ حکومت اترپردیش نے کہا کہ نومبرمیں اس کی سماعت کی جائے تو سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ہمارا فیصلہ ہے اورجنوری میں ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ اویسی نے کہاکہ پھرسپریم کورٹ کے فیصلے پراس طرح کی باتیں نہیں ہونی چاہئے۔اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت اوربی جے پی کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق ملک چلے گا، آپ کی مرضی کے مطابق نہیں چلے گا۔ اگرآپ آرڈیننس لاتے ہیں تو لائیے، ہم بھی دیکھیں گے۔واضح رہے کہ آج بابری مسجد- رام مندرمعاملے کا سپریم کورٹ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس سنجے کشن کول اورجسٹس کے ایم جوزف کی بینچ کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تواس معاملے پرسماعت جنوری تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ اس فیصلے سے سے بی جے پی اوروشو ہندو پریشد سمیت دیگر ہندو تنظیموں کا یہ مطالبہ کہ رام مندرپرفیصلہ 2019 لوک سبھا الیکشن سے قبل ہو، اس سے دھچکا لگا ہے۔ بہرحال اب سپریم کورٹ کا فیصلہ ا?نے کے بعد مرکزی حکومت کیا کرتی ہے یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔