’اپنی پارٹی‘ جلد ہوگی لانچ، سید محمد الطاف بخاری آئین مرتب کرنے میں مصروف

سری نگر: سابق وزیر سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ وہ فی الوقت اپنی نئی سیاسی جماعت ‘اپنی پارٹی’ کا آئین مرتب کرنے میں مصروف ہیں تاہم پارٹی کو عنقریب باقاعدہ لانچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی مخصوص خاندان کی پارٹی نہیں ہے اس میں کوئی بھی شمولیت اختیار کرسکتا ہے۔

یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے موصوف لیڈر نے کہا کہ ہم ابھی پارٹی کا آئین مرتب کررہے ہیں، پارٹی کی باقاعدہ لانچنگ کے لئے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہوئی ہے، پیر یا منگل کو میٹنگ ہوگی اس کے بعد پارٹی لانچنگ کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

پی ڈی پی کے سینئر لیڈر مظفر حسین بیگ کی طرف سے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بخاری نے کہا کہ جس دن پارٹی کا باقاعدہ اعلان ہوگا اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ کون ہماری پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عام لوگوں کی پارٹی ہے کسی مخصوص خاندان کی پارٹی نہیں ہے اس میں کوئی بھی شمولیت اختیار کر سکتا ہے اسی لئے ہم نے اس کا نام ’اپنی پارٹی‘ رکھا ہے۔

الطاف بخاری نے کہا کہ فی الوقت پارٹی کی سرگرمیاں جموں و کشمیر تک ہی محدود رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو سری نگر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں لانچ کیا جائے گا اور اس کے مرکزی دفاتر سری نگر اور جموں میں ہوں گے۔ الطاف بخاری نے قریب دس روز قبل یو این آئی اردو کے ساتھ سب سے پہلے یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت لانچ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک ہفتے میں پارٹی کو باقاعدہ طور پرلانچ کریں گے۔

قبل ازیں الطاف بخاری کی ماہ جنوری میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو کے ساتھ ملاقات اور بعد ازاں غیرملکی سفارتکاروں کے ساتھ ملاقات جیسی سرگرمیوں کے پیش نظر یہاں کے عوامی و سیاسی حلقوں میں ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کی خبریں گرم ہوگئی تھیں تاہم موصوف لیڈر کے ایک ترجمان نے اپنے ایک پریس بیان میں ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ الطاف بخاری کے بارے میں مشتہر کی جانے والی ان خبروں کا مقصد کنفیوژن اور گمراہی پیدا کرنا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading