آگرہ: اترپردیش حکومت آگرہ شہر کا نام تبدیل کر کے ’اگرون‘ کرنے کو تیار نہیں ہے۔اور اس ضمن میں کچھ بھی فیصلہ کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے الہ آباد اورفیض آباد کی طرح تاریخی شہر آگرہ کا نام بدل کر ’اگرون‘ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ ماضی میں اس بات کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ آگرہ میں اگروالوں کی تعداد زیادہ ہے اور مہاراجا اگرسین کی وہ پوجا کرتے ہیں۔اس لئے اس کا نام تبدیل کر کے’اگرون‘کردیا جائے۔
آگرہ(شمالی) اسمبلی سیٹ سے پانچ بار کے رکن اسمبلی جگن پرساد گرگ نے ماضی میں یوگی حکومت کو ایک خط لکھ کر آگرہ کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت نے بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ سے آگرہ کے پرانے نام کے بارے میں تحقیق کر کے حقائق سے آگاہ کرنے کو کہا ہے۔لیکن اس میں ابھی وقت لگے گا۔ویسے آگرہ ایک عالمی سیاحتی مقام ہے لہذا اس کا نام تبدیل کرنا آسان نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اتر پردیش حکومت اس سے پہلے الٰہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج، مغل سرائے ریلوے اسٹیشن کا نام بدل کر دین دیال اپادھیائے اسٹیشن کر چکی ہے جب کہ فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا اور بنارس کا نام بدل کر وارانسی کر چکی ہے۔ جہاں تک آگرہ کا نام تبدیل کیے جانے سے متعلق اب تک ہوئی کارروائیوں کی بات ہے تو بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے پروفیسر سگم آنند کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں یونیورسٹی کو حکومت سے ایک خط ملا ہے۔ اس خط کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس سمت میں تحقیق کا کام شروع ہو گیا ہے۔ آگرہ کے نام کو لے کر پرانے دستاویزوں کو دیکھا جا رہا ہے تاکہ باریکی سے سچائی تک پہنچا جا سکے۔
کچھ مورخین کا کہنا ہے کہ مہابھارت کے وقت سے پہلے آگرہ کو اگرون یا اگربان کہا جاتا تھا۔ آگرہ کا تعلق رشی انگیرا سے بھی ہے جو کہ 1000 قبل مسیح ہوئے تھے۔ دھیرے دھیرے انگیرا سے آگرہ ہوا۔ تولمی ایسا پہلا شخص تھا جس نے اگرون کو پہلی بار آگرہ کہہ کر بلایا اور پھر دھیرے دھیرے اگروان کو آگرہ ہی کہا جانے لگا۔ قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ یوگی حکومت جلد ہی علی گڑھ، فیروز آباد، مظفر نگر، غازی پور، شاہجہاں پور، مراد آباد اور اعظم گڑھ کے نام بھی بدل سکتے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
