اورنگ آباد: بیڑ بائے پاس سروس روڈ پر حائل قبضہ جات کے خلاف کاروائی شروع سروس روڈ کی تعمیر کا مسئلہ ٹھنڈے بستے میں بند ‘انتظامیہ کی خاموش سے لوگ ناراض

اورنگ آباد:(جمیل شیخ): آخر کار بیڑ بائے پاس سروس روڈ میں حائل قبضہ جات کے خلاف کاروائی شروع کردی گئی۔ آج میونسپل افسران کی موجودگی میں 15 قبضہ جات ہٹائے گئے یہ کاروائی آئندہ بھی جاری رہیگی۔

بیڑ بائے پاس روڈ پر پیش آنیوالے حادثات پر قابو پانے یہاں سروس روڈ تعمیر کرکے ٹریفک مستقل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے یہ معاملہ التواء میں پڑا ہے۔ اور بیڑ بائے پاس روڈ پر حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ساکنان کی شکایت پر غور کرتے ہوئے آج ایک اہم میٹنگ جبیندا ہال میں منعقد کی گئی اس میٹنگ میں میئر نند کمار گھوڑیلے کے علاوہ علاقہ کے رکن اسمبلی سنجئے سرساٹھ سی پی چرنجیوپرساد اور میونسپل افسران کے علاوہ بڑی تعداد میں ساکنان موجود تھے۔

ساکنان نے سروس بس روڈ کا کام فوری مکمل کرنے کا مطالبہ کرنے پر میونسپل افسران نے بتایا کہ سروس روڈ کی تعمیر میں حائل املاک تحویل میں لینے کی کاروائی کرنے میں وقت لگے گا۔ کافی غوروخوص کے بعد سروس روڈ میں حائل املاک اور قبضہ جات ہٹانے کا فیصلہ کیاگیا او ردوپہر بعد قبضہ جات ہٹانے کی کاروائی شروع کردی گئی شام تک۵۱قبضہ جات ہٹانے کی کاروائی شروع کردی گئی۔ شام تک ۵۱ قبضہ جات اور وائر مینگ ہٹائے دئے گئے تھے قبضہ جات ہٹانے کی کاروائی آئندہ بھی جاری رہیگی یہ کاروائی میونسپل ڈپٹی انجینئر اے بی دیشمکھ بی ڈی پاٹھک وامن کابلے ایس ایل کلکرنی پی پی گولی شیخ مظہر ٹائون پلاننگ کے سنجئے کامبلے اور ستارا دیویالائی کے پواانسپکٹر آڑْ کی موجودگی میں کاروائی انجام دی گئی۔بیڑ بائے پاس راستے پر دن بدن حادثوں کی بڑھتی تشویش کا باعث ہے لیکن حادثات پر قابو پانے سروس روڈ کی تعمیر کا مسئلہ ٹھنڈ بستے میں بند ہے حکومت اور عوامی نمائندوں کی اس اہم مسئلے کی جانب خاموشی ہے لوگ ناراض ہیں۔ بیڑ بائے پاس پر پچھلے دو ماہ کے دران دس لوگ حادثوں کا شکار ہوکر اپنی جان گنوا چکے ہیں مگر عوامی نمائندوں نے اس جانب توجہ نہیں دی ستارا اور دیولائی کے ساکنان سوال کررہے ہیں کہ آخر کب تک ہم لوگ اس راستے پر جان دیں حادثات کی روک تھام کے لئے ٹریفک پولس نے کئی اہم فیصلے کئے مگر اس میں پولس کو کامیابی نہیں ہوئی۔

رکن پارلیمنٹ چندر کانت کھیرے اور رکن اسمبلی سنجے سرساٹھ کے حلقوں میں یہ خطرناک راستہ موجود ہے۔ اس راستے کے ساتھ سرویس روڈ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیاگیا لیکن ان دونوں عوامی نمائندوں نے سروس روڈ کی تعمیر کی جانب توجہ نہیں دی اور یہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں بند ہے کارپوریشن میں شیوسینا برسرکار میئر نند کمارگھوڑیلے بھی سروس روڈ معاملے میں زبان بند رکھے ہوئے ہیں جس کے باعث علاقہ کے ساکنان میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے جسے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر جلد بیڑ بائی پاس روڈ پر سروس روڈ تعمیر نہ کیا گیا تو حکومت اور کارپوریشن کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ وار تحریک شروع ہوسکتی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading