انڈیا کو جواب، پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟

عاصمہ شیرازی صحافی۔بی بی سی

14 فروری سے لے کر 25 فروری، پلوامہ واقعے سے بالاکوٹ حملے تک انڈیا نے ایک فضا بنائی، اندرونی اور بیرونی رائے عامہ ہموار کی اور سفارتی گھنٹیاں بجائیں۔یہاں تک کہ سعودی شہزادے کے دورے کے دوران پاکستان کے بہترین دوست سے پاکستان مخالف بیان دلوانے کی بھرپور مہم چلائی گئی اور میڈیا اور عوام کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا مگر خاطر خواہ کامیابی نا ملی۔۔

انڈیا کی سفارتی سطح پر واویلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود دہلی میں موجود کم و بیش 150 سے زائد سفارتی مشنز کے نمائندوں اور سربراہ کو ہنگامی طور پر بلا کر بریفنگ دی گئی۔

انڈیا میں سفارتکاروں کے سربراہ نے ایک بیان میں نہ صرف انڈیا کی کوششوں کو سراہا بلکہ بالاکوٹ حملے کو جائز قرار دیتے ہوئے اپنے دفاع کے لیے پیشگی بچاؤ کے لیے حملہ یعنی ’پری ایمپٹو سٹرائک‘ قرار دے ڈالا۔

پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟

فوجی اور سفارتی سطع پر لائحہ عمل کیا ہوگا؟ کیا پاکستان انڈین جارحیت کا فوجی جواب دے گا؟ ایسی صورت میں دنیا کی جانب سے کیا ردعمل ہو گا؟ اور اس کے بعد ایک نئی جنگ خطے میں امن کے ماحول کو کس حد تک خراب کر دے گی؟ اس پر بھی غور کرنا ہو گا۔اس وقت پاکستان کی حکومت اور افواج پر سخت دباؤ ہے۔ کسی قسم کی جلد بازی میں اُٹھایا جانے والا قدم کسی نا قابلِ تلافی نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ لہذا پھونک پھونک کر قدم اُٹھانا ہو گا۔

انڈیا کو جواب دینا بھی ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں انڈیا آئندہ بھی ایسے حملے کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

جواب دیا گیا تو ہم عالمی برادری کی حمایت حاصل کر پائیں گے یا نہیں اس کی جمع تفریق بھی ضروری ہے۔ سلالہ واقعے میں امریکی افواج کی اندرونی مداخلت کے بعد اس وقت کی حکومت نے امریکہ کو نیٹو سپلائی بند کر کے سخت اور بھر پور پیغام دیا تھا۔

پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا۔۔۔

کیا اب ہم سیاسی، معاشی، دفاعی اور خاص کر کے سفارتی سطح پر جنگ لڑنے اور جیتنے کو تیار ہیں۔ وقت اور موقع اب بھی ہے کہ یہ بھی سوچا جائے کہ آگے بڑھنے کے لئے جذبات کی نہیں عالمی اعتماد کے حصول کے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ جنگ ہماری خودمختاری اور بقاء کی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading