” انسانوں کے لئے سب سے بہتر طریقہ زندگی اسلام ہے”  بھیونڈی میں جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم و تحفظ شریعت سے مفتی محمد حذیفہ قاسمی کا خطاب

بھیونڈی (شارف انصاری ):- اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ شرعی احکام و قوانین تا قیامت آنے والے انسانوں کیلئے مشعل راہ ہیں زندگی کی کامیابی اور سکون شریعت مطہرہ کے اندر مضمر ہیں ۔ اسلئے ہمیں اپنی جان اور مال سے زیادہ اسکی حفاظت کی فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

جمعہ بعد مغرب شہر کے کھنڈو پاڑہ روڈ پر نوجوانان ویتال پاڑہ کی جانب سے منعقدہ ایک اجلاس بعنوان ” جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم و تحفظ شریعت ” میں مالیگاوں سے تشریف لائے مہمان مقرر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے اپنے تفصیلی خطاب میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور خلفاء راشدین کی سیرت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے مذکورہ باتیں واضح کردی ۔ انھوں نے عوام کو متوجہ کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ اسکی حفاظت تبھی ممکن ہے جب ہم اسکو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں شریعت مطہرہ پر عمل کی عدم دلچسپی کی بنیاد پر غیروں کی نگاہیں ۔اسمیں رد وبدل کیلئے لگی ہوئی ہیں اسلئے ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے لگائیں اپنے سینوں میں بسائیں اور مکمل طور پر شریعت کے پابند بن جائیں اور دنیا والوں کے یہ باور کرادیں کہ ہماری شریعت ہمیں جان سے پیاری ہے۔ اگر اسکی طرف کسی نے ردوبدل کی نیت سے نگاہ بھی اٹھائی تو ہم اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکا مقابلہ کریں گے ۔مولانا نے حکومت وقت کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پری شریعت کی خاطر ہم اپنی جانوں کو قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن اسمیں کسی بھی طرح کا کوئی ردو بدل ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔ اپنے ڈیڑھ گھنٹے کے خطاب میں بہت سارے واقعات کی روشنی میں سیرت طیبہ اور شرعی احکام کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ اگر حکومتیں اسلامی شریعت کو سمجھکر پارلیمنٹ میں قوانین بنانے لگ جائیں تو ملک میں امن کی فضا لہرائیگی کیونکہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کا دل نہیں دکھایا اور نہ کسی کے ساتھ کوئی نا انصافی کی اور یہی طرز عمل خلفاء راشدین کا تھا جنہوں نے حکومت چلانے کا دنیا کو بہترین نظام سکھا یا اور اسکو دنیا والوں نے تسلیم بھی خود گاندھی جی نے اپنے دور میں اسکا اظہار بھی کیا پورا مجمع حضرت کے بیان کو پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ سنتا رہا اسکے بعد صدر اجلاس انجمن احیائے سنت مہاراشٹر کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد حذیفہ صاحب قاسمی نے بھی طویل صدارتی خطاب کیا جسمیں خصوصاً عورتوں سے متعلق احکام شرعیہ کو واضح کیا کہ دنیا والے عورتوں کو انصاف دینے کی بات کرتے ہیں ہم دنیا والوں سے کہنا چاہتے ہیں۔ کہ آو ہماری شریعت کا مطالعہ کرو اسلام عورتوں کو جو حقوق دیئے ہیں دنیا اسکا تصور بھی نہیں کر سکتی طلاق کا نام لیکر ہماری شریعت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے آو طلاق کے شرعی احکام کیا ہیں کب طلاق دینے کا شریعت نے حکم دیا ہے اسکو سمجھنے کی کوشش کی جائے عوام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کوئی کھلونا نہیں ہے ۔جسے جب سمجھ میں آئے اس سے کھیلا جائے بلکہ طلاق اسلام میں ان لوگوں کیلئے جنکے لئے زندگی گزارنا آپس میں دشوار ہو جائے انکے لئے ایک نعمت ہے اور بہت سارے حقوق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت نے فرمایا کہ اسلام نے عورتوں کو جو تحفظ دیاہے دنیا کے کسی مذہب نے بھی ایسا تحفظ عورتوں کو فراہم نہیں کیا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران عوام کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مغربی تہذیب سے ہم نے اپنا رشتہ جب سے جوڑا ہے شرعی احکام ہمارے معاشرے سے ختم ہوتے جا رہے ہیں یہی وجہ ہیکہ کوئی بھی آکر ہماری شریعت میں ترمیم کی بات کرتا ہے ہم اپنے گھر کی جب خود نگہبانی کریں گے تو کسی چور کی اتنی مجال نہیں کہ وہ ہمارے گھروں میں جھانکنے کی کوشش کرے اسلئے ضرورت ہیکہ ہم سچے پکے مسلمان بن جائیں شرعی احکام کے پابند بن جائیں خرافات سے بچیں رسم ورواج کا اپنے معاشروں سے خاتمہ کریں اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کرائیں بلوغت کے بعد جلد سے جلد انکی شادی کی فکر کریں شادیوں میں فضول خرچی سے بچیں انشاء اللہ دنیا والے ہماری زندگیوں کو دیکھ کر للچائی نظروں سے دیکھیں گے اور اسلام سے قریب آنے کی کوشش کریں گے اپنے بیان کے آخری حصہ میں حضرت نے اس ملک میں شریعت کی حفاظت کے تئیں دارالعلوم دیوبند کے اکابر اور بزرگوں کی کیا خدمات رہی ہیں۔ اسکی طرف بھی توجہ دلاتے ہوئے عرض کیا کہ ہم جو اس ملک میں چین وسکون کے ساتھ شرعی احکام پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں یہ ہمارے دارالعلوم دیوبند کے اکابر ہی کی مرہون منت ہے اجلاس میں پوری بھیونڈی سے آئے ہوئے عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا ۔عورتیں بھی کافی تعداد میں پردے کے پیچھے اجلاس سے استفادہ کیا۔ اجلاس کا آغاز قاری محمد مصدق مومن صاحب کی تلاوت سے ہوا مولانا محمد ساجد قاسمی نے بارگاہ رسالت مآب میں نذرانہ عقیدت کا گلدستہ پیش کیا اور مولانا محمد ثاقب صاحب قاسمی نے دارالعلوم دیوبند کا مشہور ترانہ مولانا ریاست علی ظفر بجنوری رحمۃ اللہ علیہ کے قلم لکھا ہوا اپنی دلکش آواز میں پیش کیا۔ اجلاس کی سرپرستی حضرت مولانا مفتی محمد یاسین صاحب قاسمی پوری ذمہ داری کے ساتھ فرمائی۔ نظامت کے فرائض جامعہ سراج العلوم کے صدر مفتی حضرت مولانا مفتی فیاض احمد صاحب قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دیئے ۔مہمان خصوصی کے طور پر اجلاس میں سابق ڈپٹی مئیر ڈاکٹر نور الدین نظام الدین اور سابق کارپوریٹر امام الدین انصاری ،حسنین فاروقی ،ابرار انصاری منا سیٹھ وغیرہ موجود رہے ۔ جامعہ سراج العلوم کے ناظم اعلی حضرت مولانا مفتی لئیق احمد صاحب قاسمی کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading