امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’انتہائی امیر لوگوں‘ کا ایک گروہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک خریدنے کے لیے تیار ہے۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً دو ہفتے میں اس بارے میں بتائیں گے۔ٹک ٹاک کی فروخت کے لیے چین کی حکومت کی منظوری درکار ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں صدر شی جن پنگ اس کی منظوری دے دیں گے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ٹک ٹاک کو امریکہ میں صرف اس صورت میں کام کرنے اجازت ہوگی اگر وہ اسے فروخت کر دے۔امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایپ یا اس کی مالک کمپنی بائیٹ ڈانس امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے حوالے کر سکتی ہے۔ تاہم ٹک ٹاک اس کی تردید کرتا آیا ہے۔
یہ قانون رواں سال 19 جنوری کو نافذ ہونا تھا، لیکن ٹرمپ نے بار بار اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس کے نفاذ میں تاخیر کی۔اب بائیٹ ڈانس کے پاس ٹک ٹاک کو بیچنے کے لیے 17 ستمبر تک کا وقت ہے۔
رواں سال اپریل میں ٹک ٹاک کو فروخت کرنے کی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب وائٹ ہاؤس اور چین کے درمیان ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے محصولات کو لے کر تنازع پیدا ہو گیا تھا۔تاحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ نے جس خریدار کا ذکر کیا ہے یہ وہی ہیں جو تین ماہ قبل ٹک ٹاک کو خریدنے والے تھے۔