ہندی مسلط کرنے کا فیصلہ آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل درآمد کی ریہرسل: ہرش وردھن سپکال

یہ وزیراعلیٰ کا تنہا فیصلہ تھا، دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کو اس کی خبر تک نہ تھی

آر ایس ایس اور بی جے پی بھارت کی شناخت ’وحدت میں کثرت‘ کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں

بی جے پی زبان اور مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہے مگر ہم ایسا ہرگز ہونے نہیں دیں گے

نئی دہلی:30 جون 2025

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ایجنڈا ’ہندی-ہندو-ہندوراشٹر‘ ہے، اور مہاراشٹر میں برسراقتدار مہایوتی حکومت اسی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہے۔ شروع سے ہی ہندی زبان کو لازمی کرنے کی پالیسی اسی ایجنڈے کا حصہ رہی ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے حال ہی میں ہندی مسلط کرنے کا سرکاری حکم نامہ جاری کر کے دراصل یہ پرکھنے کی کوشش کی کہ عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔ لیکن جب مہاراشٹر کی عوام نے اس کی سخت مخالفت کی تو حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اسمبلی اجلاس سے قبل یہ فیصلہ دراصل حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش بھی تھی۔ ان خیالات کا اظہار مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔

نئی دہلی میں واقع مہاراشٹر بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ہم تو گزشتہ تین دنوں سے کہہ رہے تھے کہ حکومت یہ فیصلہ واپس لے گی۔ کیونکہ اس کے خلاف ریاست بھر میں شدید عوامی احتجاج جاری تھا۔ ادب، زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں، تنظیموں، ادیبوں اور اپوزیشن جماعتوں نے ایک آواز ہو کر اس کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ مرا ٹھی زبان صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری پہچان، ثقافت اور طرزِ زندگی کا حصہ ہے۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ تمام زبانوں کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور اسی بنیاد پر لسانی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا۔ ہماری سوچ ہے کہ تمام زبانیں اور بولیاں بھائی چارے کے ساتھ ساتھ چلیں، یہی ہندوستان کی اصل خوبصورتی ہے مگر بی جے پی کو یہ پسند نہیں۔ ان کا ایجنڈا شروع سے ’ایک قوم، ایک زبان، ایک مذہب اور ایک لیڈر‘ کا رہا ہے۔ انہیں آئین کی کوئی پروا نہیں، بلکہ مہاتما گاندھی کے قتل کے پیچھے بھی یہی مقصد چھپا تھا کہ ملک میں آئینی نظام نافذ نہ ہوسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور سنگھ جس زمین پر ہندی بولی جاتی ہے اسے اپنی سیاست کے لیے زرخیز سمجھتے ہیں، لیکن جہاں دوسری علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں، وہاں انہیں کامیابی نہیں ملتی۔ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ جو ہندی بولے اور ’نمستے سدا وَتسلے‘ کہے، وہی صحیح معنوں میں ہندو مانا جائے۔ یہ ایک غیر فطری، بگڑی ہوئی اور غیر اخلاقی تعریف ہے جسے بی جے پی رائج کرنا چاہتی ہے۔ آزادی کی لڑائی میں جب کانگریس اور دیگر تنظیموں کے لوگ قربانیاں دے رہے تھے، تب یہ لوگ انگریزوں کے ایجنٹ بنے ہوئے تھے۔ اسی لیے انہیں اس جدوجہد کی قیمت کا اندازہ نہیں۔ بی جے پی زبان اور مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے نکلی ہے، مگر ہم ایسا ہرگز ہونے نہیں دیں گے۔ کانگریس پارٹی ملک کی یکجہتی، سالمیت، جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہے گی۔

MPCC Urdu News 30 June 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading