ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے امریکی فریق نے مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجنے شروع کیے ہیں تاہم ایران کی پالیسی ’دفاع جاری رکھنے‘ کی ہے اور ان کا ’فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘۔ ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران میں اپنے ’بنیادی اہداف‘ کے حصول کے بہت قریب ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آج ایران کے سرکاری ٹی وی کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’کئی دنوں سے امریکی فریق نے مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجنے شروع کیے ہیں۔‘
لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ پیغامات ’دوستانہ ممالک کے ذریعے پہنچائے گئے‘ اور ایران نے ان کا جواب اپنی پوزیشن بیان کرکے اور انتباہات جاری کرکے دیا، اس لیے یہ ’نہ مکالمہ ہے، نہ مذاکرات، اور نہ ہی اس نوعیت کی کوئی چیز۔‘
عراقچی نے یہ بھی کہا کہ فی الحال ایران کی پالیسی ’دفاع جاری رکھنے‘ کی ہے اور ان کا ’فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ اسرائیل کی جنگ ہے اور اس کی قیمت خطے کے عوام اور امریکہ کے عوام ادا کر رہے ہیں۔‘