امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور

امریکی صدر ڈونلڈ َٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران ایک ’ممکنہ معاہدے کے مسودے‘ پر کام کر رہا ہے جسے اگلے چند دنوں میں امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔
جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے ہونے والی بات چیت کے اختتام پر ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا، ’ کیا آپ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے محدود پیمانے پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟‘اس سوال پر صدر ٹرمپ نے کچھ لمحوں کا وقفہ لیا اور کہا ’میرے خیال میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کے ایسا سوچ رہا ہوں۔‘

اس سے قبل امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی شرائط کو تسلیم کرے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ممکنہ کارروائی میں محدود پیمانے پر فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر تہران معاہدے کی تعمیل کرنے سے انکار کرتا ہے تو بعد میں حملوں کو وسعت دی جائے گی جس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہو گا۔

تاہم وال سٹریٹ جنرل کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی بھی حملے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن وہ ایک مختصر مدت کی مہم سے لے کر ایرانی فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑی مہم تک کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب جمعہ کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ایک ’ممکنہ معاہدے کے مسودے‘ پر کام کر رہا ہے اور اگلے چند دنوں میں اسے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ایک طرف جہاں جنیوا میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ مذاکرات ہو رہے ہیں وہیں امریکہ نے ایران کے اطراف میں اپنی افواج کی تعیناتی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی شامل ہے جو رفتہ رفتہ خطے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading