آپ نے سمندر کئی بار دیکھا ہوگا، شاید سمندر کے کنارے بھی گئے ہوں گے۔ مدّ و جزر کا لطف اٹھایا ہوگا۔ جب سمندر طوفانی ہوتا ہے تو وہ اپنے ساتھ بہت سی چیزیں کنارے تک لے آتا ہے۔ سمندر کی تہہ میں موجود کچرا اور ناکارہ اشیاء ساحل پر آ جاتی ہیں۔ بعض اوقات لہروں کے ساتھ لاشیں بھی کنارے پر آ لگتی ہیں۔ اسپین میں بھی ایسی ہی ایک لہر آئی، مگر اس کے ساتھ کچھ غیر معمولی چیز سامنے آئی جس نے سب کو حیران کر دیا۔ اسپین کے سیاحوں سے ہمیشہ آباد رہنے والے شہر والینسیا میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا، جسے پڑھ کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے۔
شہر کے معروف ’ریئل کلب نوٹیکو‘ مرینا کے قریب اچانک پانی میں ایک دیوہیکل شے نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی عام چیز نہیں بلکہ تقریباً 30 فٹ لمبی اور ساڑھے 6 ٹن وزنی وہیل مچھلی ہے۔ سمندر کی گہرائیوں میں رہنے والا یہ جانور انسانی آبادی کے اتنے قریب آ گیا، جس نے سب کو حیران کر دیا۔ اس دیوقامت مچھلی کو باہر نکالنے کے لیے انتظامیہ کو ایک بڑی کرین طلب کرنا پڑی۔ وہیل دنیا کی دوسری بڑی مچھلی سمجھی جاتی ہے اور سمندر کی سب سے بڑی مخلوق میں شمار ہوتی ہے۔ والینسیا کے اس ترقی یافتہ علاقے میں وہیل کا ظاہر ہونا برطانوی سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے کسی فلمی منظر سے کم نہ تھا۔
مچھلی کا حجم اور وزن اتنا زیادہ تھا کہ اسے ہلانا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ بڑی کرین کی مدد سے تقریباً 9 میٹر لمبی اس وہیل کو ساحل سے کھینچ کر خشک زمین پر رکھا گیا۔ اس کا بے حد بڑا سائز دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ انتظامیہ کے لیے یہ کارروائی کسی بڑے چیلنج سے کم نہ تھی، لیکن سائنسدانوں کے لیے اس کی موت کی وجہ معلوم کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ عام طور پر ایسی مچھلیوں کی موت بڑے جہاز سے ٹکرانے کے باعث ہوتی ہے، تاہم اس کے جسم پر نہ کوئی زخم تھا اور نہ ہی خون کے نشانات۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس کی کسی جہاز سے ٹکر نہیں ہوئی۔
اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ وہیل کسی بیماری میں مبتلا تھی؟ یا پھر سمندر میں بڑھتی ہوئی آلودگی اس کی موت کا سبب بنی؟ ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے ویٹرنری ماہرین اور سائنسدانوں نے وہیل کے جسم کے نمونے لے کر جانچ کے لیے مدرید یونیورسٹی بھیج دیے ہیں۔