امریکہ: ’لاک ڈاؤن میں تاخیر نے 36000 زندگیاں لے لیں‘

نیویارک ٹائمز کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین کے اندازوں کے مطابق اگر امریکہ سماجی دوری کے اقدامات جلد نافذ کر دیتا تو ہزاروں جانیں بچ سکتی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ کے نصف میں نافذ کیے جانے والی حفاظتی اقدامات اگر ہفتہ قبل کیے جاتے تو 36000 کم لوگ مرتے۔

محققین کے اندازے کے مطابق اگر امریکہ یکم مارچ کو لاک ڈاؤن کرتے ہوئے سماجی دوری نافذ کر دیتا تو ملک میں ہونے والی زیادہ تر ہلاکتوں (83 فیصد) سے بچا جا سکتا تھا۔

تحقیق کے سربراہ جیفری شیمن کا کہنا تھا ’یہ بہت بڑا فرق ہے۔ اس اضافے کے وقت میں ایک لمحہ بھی انتہائی نازک ہوتا ہے جس سے ہلاکتوں میں کمی کی جاسکتی ہے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading